0

گردے اور مثانے کی تکالیف کا قدرتی علاج

احتیاط: جگر کی خرابی کی صورت میں پیشاب آور دوائیں استعمال نہ کریں اور دوا استعمال کرنے کے دوران پیشاب اور خون میں شوگر کی مقدار چیک کرنے کے لیے معائنہ کراتے ر ہنا چاہیے کیونکہ ان سے شوگر زیادہ ہونے کا چانس ہوتا ہے۔دوا کی نوعیت اور ضرورت کی اہمیت: پیشاب کا زیادہ یا کم آنا یا اس کا رک جانا مختلف بیماریوں کی صورت میں یا گردہ اور مثانہ کی تکالیف کی و جہ سے ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تکالیف مختلف بیماریوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات از خود دوائیاں لینے سے بھی اس طرح کی علامات جنم لے لیتی ہیں۔ اکثر اوقات بچوں میں بہت تنگ پاجامہ یا زیر جامہ وغیرہ پہنانے سے بھی ان کا پیشاب رک جاتا ہے۔ شوگر کی بیماری میں بھی پیشاب زیادہ آتا ہے۔ اس کے علاوہ پراسٹیٹ گلینڈ بڑھنے سے پیشاب میں رکاوٹ ہو جاتی ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر کسی قسم کی دوا شروع کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پیشاب کی تکلیف کی اصل وجہ کیا ہے۔ اصل وجہ جاننے کے بعد ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج شروع کیا جا سکتا ہے۔آسان اور متبادل علاج: گردے اور مثانے کی تکالیف میں مندرجہ ذیل آسان گھریلو نسخوں پر عمل کریں۔٭ اگر کبھی چھوٹے بچے پیشاب میں رکاوٹ کی شکایت کریں تو سب سے پہلے ان کا لباس چیک کریں کہ وہ زیادہ تنگ تو نہیں۔ اس کے بعد پیٹ پہ ہلکا سا مساج کریں اور پیشاب والی جگہ پر تھوڑا سا نیم گرم پانی ڈالیں۔ خودبخود پیشاب آ جائے گا۔٭ جن بچوں کو بستر پر پیشاب کرنے کی عادت ہو انہیں رات سونے سے پہلے پینے والی اشیا نہ دیں اور سونے سے پہلے ایک چمچ شہد اور اس میں دو کالی مرچ کے دانے پیس کر روزانہ پندرہ دن کے لیے دیں۔ ان شا اللہ افاقہ ہوگا۔٭ پیشاب بند ہونے کی صورت یا پیشاب میں جلن ہونے کی صورت میں پینے و الی اشیا مثلا کچی لسی، تازہ پانی، جوس وغیرہ زیادہ استعمال کریں۔ تربوز، موسمی پھل، کینو، سنگترہ، میٹھے، خربوزہ، کھیرا، ککڑی، انار، گنے کا رس، گنڈیریاں وغیرہ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ یہ سب چیزیں پیشاب آور ہوتی ہیں اور ان کے کھانے سے بعض اوقات گردوں کی پتھری بھی نکل آتی ہے اور پیشاب کی نالی بھی صاف ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تھوڑے سے چنے بھون کر ان میں دو چمچ شکر ڈال کر ناشتہ میں استعمال کرنے سے پیشاب میں رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں