0

کیا چٹانوں کا سفوف، ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کم کرسکتا ہے؟

لندن: برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چٹانوں اور پتھروں کا سفوف (پاڈر) بنا کر فصلوں پر چھڑک دیا جائے تو وہ فصلیں ہوا سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کے قابل ہوجائیں گی۔انہوں نے یہاں تک اندازہ لگایا ہے کہ اگر یہ ترکیب ساری دنیا میں اگنے والی فصلوں پر آزمائی جائے تو اس سے ہر سال تقریبا دو ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ، زمینی فضاں سے کم کی جاسکے گی۔یہ تکنیک اپنے آپ میں بہت سادہ اور قدرتی طریقے سے ملتی جلتی ہے کیونکہ چٹانوں اور پتھروں میں ایسی معدنیات پائی جاتی ہیں جو بارش کے پانی سے مل کر، ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ کیمیائی عمل کرتی ہیں اور اسے بے ضرر مرکبات میں تبدیل کردیتی ہیں۔چٹانوں کی سطح سے یہ ذرات الگ ہوتے ہیں اور بارش کے پانی کے ساتھ بہتے ہوئے ندی نالوں میں، اور بالآخر دریاں کے راستے سمندر میں پہنچ کر تہہ نشین ہوجاتے ہیں۔ یہ قدرتی عمل راک ویدرنگ یعنی چٹانوں کی موسم بردگی کہلاتا ہے۔ یہی وہ قدرتی طریقہ بھی ہے کہ جس کے ذریعے چٹانیں بتدریج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔اسی مناسبت سے چٹانوں کے سفوف کو فصلوں پر بکھیرنے کے مصنوعی عمل کو اینہانسڈ راک ویدرنگ یا چٹانوں کی تیز رفتار موسم بردگی کا نام دیا گیا ہے۔ البتہ ابھی اس کی عملی افادیت کا تعین کرنا باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں