0

کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، سندھ ہائیکورٹ

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شہر میں گندگی، غلاظت اور کچرے کے ڈھیر کیخلاف درخواست پر درخواست گزار کو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو فریق بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ڈپٹی سیکریٹری محکمہ بلدیات سمیت دیگر سے جواب طلب کرلیا۔جسٹس خادم حسین ایم شیخ اور جسٹس ارشد حسین خان پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو کراچی میں گندگی ، غلاظت اور کچرے کے ڈھیر سے متعلق سماعت ہوئی۔ سندھ ہائیکورٹ کے ججز کچرا گندگی اور غلاظت کی پیش کردہ تصویریں دیکھ کر رنجیدہ ہوگئے۔ جسٹس خادم حسین شیخ نے سیکریٹری بلدیات سندھ کو فوری طلب کرلیا۔جسٹس خادم حسین ایم شیخ نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ کیا کسی بڑے شہر کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے؟ جب سیاسی جماعتیں پاور میں نہیں ہوتیں تو کہتی ہیں اختیارات دو کام کریں گے اور جب اختیارات مل جاتے ہیں تو اپنی پاور اور ذمہ داری بھول جاتے ہیں۔ندھ حکومت کے وکیل نے موقف دیا کہ کراچی سے کچرا اٹھانا ، ڈی ایم سیز اور کے ایم سیز کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس خادم حسین ایم شیخ نے ریمارکس دیئے کے ایم سی والے تو آئے روز کہتے رہتے ہیں نہ ہمیں فنڈ ملتے ہیں نہ ہمیں کام کرنے دیا جاتا ہے۔جسٹس خادم حسین نے وکیل سندھ گورنمنٹ سے مکالمہ میں کہا کہ جب آپ کے ایم سی کو فنڈ نہیں دیتے تو خود کیوں کام نہیں کرتے؟ جسٹس خادم حسین نے ریمارکس دیئے کراچی میں گندگی اور کچرا ایک دن وبائی صورتحال اختیار کر جائے گا۔ کیا کسی شہر کی ایسی حالت ہوتی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ جب کچرا چھتوں کو چھوتا ہے تو تب ایک دو ٹرک اٹھا لیے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں