0

اس نئے مٹیریئل کو کاٹنا، تقریبا ناممکن

ڈرہم: پ دنیا کی بہترین آری، کٹر اور جدید آلات لے آئیں، امریکی اور جرمن ماہرین کا تیارکردہ نیا مادہ انہیں ناکارہ ضرور بنادے گا کیونکہ اسے کاٹنا اور توڑنا محال ہے۔اس مادے کو پروٹیئس کا نام دیا گیا ہے جسے ہیرے اور دیگر سخت ترین اجزا کی بجائے چکوترا (گریپ فروٹ) اور ایک قسم کے صدفے (مولسک) سے متاثر ہوکر بنایا گیا ہے۔ برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی اور جرمنی کے فرونہوفر انسٹی ٹیوٹ نے مشترکہ طور پر اسے تیار کیا ہے ۔ یہ انقلابی مٹیریئل جس صدفے کے خول کو دیکھ کر بنایا گیا ہے اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس پر کوئی چوٹ کا اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی چٹختا ہے۔پروٹیئس کو بنانے کے لیے المونیئم کے گول دانوں کو دھاتی فوم کی ساخت کے اندر رکھا گیا پھر اس کے ساتھ ایلومینا کی چھوٹی(خردبینی) گولیاں رکھی گئیں۔ اس طرح جب بھی کٹر سے انہیں کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ اسی کی توانائی دوبارہ اسے لوٹا دیتے ہیں۔ اب یا تو کٹر کا بلیڈ تباہ ہوجاتا ہے یا مخالف قوت سے بار بار رک جاتا ہے۔ خواہ پانی کی تیزرفتار دھار استعمال کیجئے، کوئی بھی ڈرل مشین لے آئیں یا کوئی موٹر والا کٹر، آپ پریشان ہوجائیں گے لیکن یہ مادہ دو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوگا۔ ثبوت کے طور پر نیچے ویڈیو بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ڈرہم یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مٹیریئل کو کاٹنا ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ دانے بھری جیلی کو کاٹ رہے ہیں۔ جیسے ہی آری یا ڈرل مشین دانوں سے ٹکراتی ہے ان میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو ڈرل کی نوک یا کٹر تک پہنچتا ہے اور اس ردِ عمل سے مٹیریل کو کاٹنا محال ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں