0

300 نوری سال دور ستارے کے گرد سیاروں کی پہلی براہِ راست تصویر

چلی: ماہرینِ فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمین سے 300 نوری سال دوری پر، سورج جیسے ایک ستارے کے گرد چکر لگاتے
واضح رہے کہ خلا میں روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے اور وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال کے دوران خلا میں طے کرے، وہ نوری سال (لائٹ ایئر) کہلاتا ہے۔اب تک ہم نے نظامِ شمسی سے باہر، دیگر ستاروں کے گرد گھومتے ہوئے جتنے بھی سیارے دریافت کیے ہیں، وہ سب کے سب اپنے مرکزی ستارے سے آنے والی روشنی میں اتار چڑھا یا اس ستارے کی حرکت میں بے قاعدگی کی بنیاد پر دریافت ہوئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی دوسرے ستارے کے گرد سیاروں کی براہِ راست تصویر حاصل کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق، جس ستارے کے گرد یہ سیارے دریافت ہوئے ہیں وہ ابھی بالکل نوجوان ہے اور آج سے صرف دو کروڑ سال پہلے ہی وجود میں آیا ہے۔ اس ستارے کا کوئی باقاعدہ نام تو نہیں لیکن فلکیاتی کٹیلاگ میں اس کا نمبر TYC 8998-760-1 ہے؛ اور یہ مسکا (مکھی) نامی جھرمٹ میں واقع ہے۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ نظامِ شمسی ابھی اپنی تشکیل کے ابتدائی مرحلے پر ہے، جیسا کہ ہمارا نظامِ شمسی آج سے 4 ارب 60 کروڑ سال پہلے تھا۔یہ دونوں سیارے بہت بھاری بھرکم ہیں جن میں سے ایک کی کمیت ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بھاری سیارے مشتری کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ، جبکہ دوسرے کی کمیت ہمارے مشتری سے 14 گنا زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں