0

ڈینگی اور زیکا وائرس کو علیحدہ علیحدہ شناخت کرنے کیلیے نینوسینسر تیار


ریو ڈی جنیرو: سونے سے بنے ایک بالکل نئے قسم کے نینوسینسر کی بدولت بہت درستگی سے ڈینگی اور زیکا وائرس کو آسانی سے شناخت کیا جاسکتا ہے۔ اس اختراع کی تفصیلات ریسرچ جرنل سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہوئی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ نینوذرات کسی بھی وائرس کو ایٹمی اور سالماتی (مالیکیولر) پیمانے پر شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔برازیل کی یونیورسٹی آف میناس گیریئس کے سائنسدانوں نے یہ نینوذرات بنائے ہیں، کیونکہ برازیل کو بہ یک وقت ڈینگی اور زیکا کا سامنا ہے۔ یہ دونوں وائرس فلیوی ویرائڈائی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور اگر امائنو ایسڈ کی سطح پر دیکھا جائے تو ان دونوں میں 50 فیصد تک مماثلت ہوتی ہے۔ مچھر ہی ان دونوں کی وجہ ہیں اور یہ طویل عرصے تک انسان کو متاثر کرسکتے ہیں۔نینوسینسر کیلیے مہنگے کیمیکل اور ایلیسا تشخیصی آلات کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ دونوں وائرسوں سے زیادہ تر غریب ممالک ہیں جہاں وسائل کی شدید قلت ہے۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں ہرسال کسی موسم کی طرح ڈینگی کا گراف اوپر ہوجاتا ہے۔ اس لیے ان دونوں امراض اور وائرس کی شناخت بہت ضروری ہے۔صرف شمالی اور جنوبی امریکا میں اس سال ڈینگی کے 18 لاکھ مریض سامنے آئے ہیں جن میں سے چارہزار شدید کیس ہیں جبکہ اموات کی تعداد سات سو ہے۔ تاہم عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق سالانہ 10 سے 40 کروڑ افراد ڈینگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ڈینگی کا مرض اگر اموات کی وجہ بنتا ہے لیکن ذیکا وائرس حاملہ ماں کے جنین کو متاثر کرکے نومولود کو ہمیشہ کیلیے معذور بناسکتا ہے۔ اسی لیے ان دونوں امراض کی بروقت اور درست شناخت بہت ضروری ہے۔تجرباتی طور پر ماہرین نے پہلے چاروں اقسام کے ڈینگی وائرس کی شناخت کیلیے چار طرح کے نینوذرات تخلیق کئے اور ہر ایک کو متعلقہ ڈینگی پروٹین سے ڈھانپا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایلیسیا سیرم تکنیک سے خون کے نمونوں کا اطلاق کیا۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ چاروں میں سے ہر طرح کی ڈینگی نے سونے کے نینوذرات کی ترتیب کو تبدیل کردیا۔ اس بنا پر ڈینگی کی ہر قسم کی شناخت میں بہت آسانی ہوئی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں