0

کراچی میں تیسرے روز بھی بارش؛ جاں بحق افراد کی تعداد 12 ہوگئی

کراچی: شہر قائد میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش ہوئی جب کہ اس دوران پیش آنے والے حادثات و واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 12 ہوگئی۔کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے جہاں گرمی کا زور توڑ دیا وہیں لوگوں کی مشکلات میں بھی کسی حد تک اضافہ ہوا۔کراچی میں مسلسل تیسرے روز بارش کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز تو کہیں ہلکی بارش ہوئی۔ مسلسل بارشوں کے باعث شہریوں کی اکثریت گھروں تک محدود رہی۔ ڈی ایم سیز، کے ایم سی، حکومت سندھ، این ڈی ایم اے اور پاک فوج پانی کی نکاسی کے لیے جاری ریلیف آپریشن میں مصروف رہے۔شہر کا بڑا حصہ بجلی سے محروم مون سون بارشوں کے دوران کراچی کا بیشتر حصہ بجلی سے محروم ہے۔ اورنگی، خداداد کالونی، لانڈھی، پی ای سی ایچ ایس، اولڈ سٹی ایریا اور کورنگی میں گزشتہ رات سے بجلی غائب ہے جب کہ سرجانی ٹان، خدا کی بستی اور دیگر مضافاتی علاقوں میں گزشتہ 2 روز سے بجلی غائب ہے۔کورنگی کازوے ٹریفک کے لیے بند ڈپٹی کمشنر ضلع کورنگی شہریار میمن کی ہدایت پر کورنگی کاز وے کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ ملیر ندی میں واقع کورنگی کاز وے سے پانی کا ریلہ گزر رہا تھا جس کے باعث کاز وے کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا۔ ڈی سی ضلع کورنگی نے کاز وے پر پانی کے تیز بہا کے سبب عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی اور کہا کہ کورنگی کی جانب جانے والے افراد جام صادق پل استعمال کریں۔ واضح رہے کہ ملیر ندی میں قائم کورنگی کاز وے سے لانڈھی، ملی، شاہ فیصل کالونی کے رہائشی بڑی تعداد میں سفر کرتے ہیں۔کے الیکٹرک کا بیان بجلی کی بندش سے متعلق کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کچھ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے باعث ہمارے عملے کو بجلی بحالی میں مشکلات درپیش آرہی ہیں، بعض مقامات پر پانی جمع ہونے کے باعث یکسر بجلی بحال کر دینا جانی نقصان کا باعث ہوسکتا ہے، انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، سیفٹی کلیئرنس ملتے ہی متعلقہ علاقوں میں بجلی بحال کی جارہی ہے، متعلقہ اداروں سے نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کی اپیل کرتے ہیں۔حادثات و واقعات میں 12 افراد جاں بحق گزشتہ 3 روز سے جاری مون سون بارشوں کے دوران شہر میں پیش آنے والے مختلف حادثات اور واقعات میں 12 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں سے 7 افراد کرنٹ لگنے، ایک بچی ڈوبنے سے جب کہ دو افراد مکان کی چھت گرنے سے جاں بحق ہوئے۔عائشہ منزل پر واٹر ٹینکر سڑک میں دھنس گیا ناقص میٹریل سے سڑک بننے کے سبب عائشہ منزل فلائی اوور سے ملحقہ فرنیچر مارکیٹ والی سڑک پر واٹر ٹینکر دھنس کر ایک جانب جھک گیا جو معجزانہ طور پر الٹنے سے محفوظ رہا۔ حادثے میں ٹینکر کے ڈرائیور سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے قریب اسپتال لے جایا گیا۔ واٹر ٹینکر سڑک پر دھنس جانے کے باعث عائشہ منزل سے کریم آباد شارع پاکستان جانے والے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کرنٹ سے ہلاکتوں پر الیکٹرک کا موقف کراچی اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ کرنٹ لگنے کے حادثات افسوس ناک ہیں تاہم ان کا ہمارے انفرا اسٹرکچر سے کوئی تعلق نہیں، یہ غیر قانونی طریقے سے بجلی حاصل کرنے کی وجہ سے پیش آئے ہیں۔
حیدر آباد کی صورت حال حیدرآباد شہر میں تیسرے روز بھی مختلف شاہراہوں اور چوراہوں پر بارش کا پانی جمع ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ نورانی بستی، تالاب نمبر 3، نیو کلاتھ مارکیٹ روڈ، فقیر کا پڑ چوک، گڈز ناکہ، اسٹیشن روڈ ، قاضی قیوم روڈ، لطیف آباد یونٹ 8، 10 اور 11 کے علاوہ آٹو بھان روڈ اور شاہ مکی روڈ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون سسٹم کی شدت تاحال برقرار ہے اور بارش برسانے والے سسٹم کا پھیلا بلوچستان تک ہے۔ بارش کا سلسلہ آج شب تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کی توقع ہے، کراچی میں مزید 30 ملی میٹر تک بارش ہوسکتی ہے، مون سون سسٹم آج برسنے کے بعد کمزور پڑنا شروع ہو جائے گا لیکن کراچی میں کل بھی بوندا باندی اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔بلوچستان میں بھی بارش
مون سون بارش کا سسٹم سندھ میں بارش برسانے کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں باران رحمت برسا رہا ہے۔ آواران، لسبیلہ ، مستونگ، قلات، ڈھاڈر اور جھل مگسی میں بارش کے باعث کئی روز سے جاری گرمی کی لہر کم ہوئی ہے۔ بارش کے باعث گندواہ کے ندی نالوں میں نچلے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں