0

کرشمے، انہونی، انوکھے واقعات جو انسانی عقل کے لیے چیلنج ہیں!

تجسس ، تلاش اور کھوج انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ یہ جستجو ہی ہے جس نے انسان کو اس کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے پر اکسایا اور آمادہ کیا۔انسان کو اس کی عقل اور استدلال نے اس قابل بنایا کہ وہ کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھا سکے، اور یہی نہیں بلکہ اس نے اپنے رب کی تحیرخیز کائنات کواپنی عقل، فہم اور تدبر سے تسخیر کرنے کے لیے بھی قدم بڑھائے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
اکیسویں صدی کا انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ ترقی اور شعورکی حدوں کو چھو رہا ہے، لیکن اس مرقعِ اسرار و تحیر میں، جسے ہم کائنات کہتے ہیں، قدرت اپنے ایسے اعجازو کمالات لے کر بھی سامنے آئی جب انسان اپنے عقلی اور منطقی استدلال ، بہترین اور جدید سائنٹفک آلات، ٹیکنالوجی اور طرح طرح کی سہولیات سے آراستہ تجربہ گاہیں رکھنے کے باوجود ان کے بارے میں سائنسی اور عقلی توجیہہ دینے میں ناکام ہو گیا اور بے بس نظر آیا۔بہت ممکن ہے کہ کچھ عرصے بعد یہی راز اور ایسے واقعات انسانوں کے لیے معما نہ رہیں لیکن فی الوقت دنیا بھر کے مفکرین اور سائنس دانوں کے پاس کائنات میں پیش آنے والے کئی واقعات کی کوئی دلیل، منطق، سائنسی توجیہہ موجود نہیں اور وہ ا ن سے متعلق حتمی بات کرنے یا ان کا کوئی حل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ یہاں ہم چند ایسے واقعات کا تذکرہ کررہے ہیں جنھیں پراسرار اور انسانی عقل کے لیے چیلنج کہا جاسکتا ہے۔٭ فائر ٹورنیڈو:اگست 2018 میں کیلیفورنیا کے جنگل میں آگ لگ گئی۔ یہ آگ گویا قیامت صغری تھی۔ اس آگ نے تیزی سے شہر کا رخ کیا اور ڈھائی لاکھ لوگوں کو ہنگامی طور پر نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ آگ کے شعلے 18 میٹر تک بلند ہورہے تھے۔ تقریبا سات ہزار گھر اور کاروباری مقامات تباہ ہوگئے جس کی وجہ سے اسے ریاست کا سب سے تباہ کن آتش زدگی کا واقعہ کہا گیا۔اس واقعے کا ایک خوف ناک منظر یہ تھا کہ آگ اور دھویں نے ایک بہت بڑے ٹور نیڈو (آتش باد) کی شکل اختیار کر لی جوآسمان میں کئی ہزار فٹ تک بلند ہوا اور اسے دو میل دور سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ آگ کے اس طوفانی شکل اختیار کرلینے کے باعث پورے شہر میں گرم ہوائیں چلنے لگیں ۔ دنیا نے اس سے پہلے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔ یہ سلسلہ خو د ہی تھما اور ختم ہو گیا، لیکن جنگل میں بھڑکنے والی آگ سے آتش باد نے کیسے جنم لیا؟ ماہرینِ سائنس اس گتھی کو سلجھانے سے قاصر ہیں۔ بر ف کا طوفان:امریکا کا شمالی علاقہ منیسوٹا متعدد عظیم جھیلوں پر مشتمل ہے۔ اسے امریکا کی 32 ویں ریاست تسلیم کیا گیا ہے اور اسے دس ہزار جھیلوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔یہاں مختلف برسوں کے دوران ناگہانی آفت کی وجہ سے مالی اور جانی نقصانات ہوتے رہے ہیں جن میںسب سے خطرناک ایک جھیل میں برف کا طوفان ہے جو اپنی نوعیت کا عجیب واقعہ ہے۔ دریاں کا بپھرنا یا سمندری طوفان یا شدید برف باری کوئی نئی بات نہیں اور ان قدرتی آفات کے نتیجے میں انسان نے مالی اور جانی نقصانات بھی جھیلے ہیں، مگر کسی جھیل میں بننے والا برف کا طوفان انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ خوف ناک بات یہ ہے کہ برفانی طوفان جھیل اور اس کے قرب و جوار تک محدود نہ رہا بلکہ میلوں دور تک تباہی کا باعث بنا۔اس طوفان کے دوران تیز ہواں کی وجہ سے برف کی بڑی بڑی سلوں کے ٹکڑے جھیل کے کناروں اور اس سے دور جاکر گررہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں