0

عمران خان کا ساتھ دیکر کراچی کیلیے کچھ حاصل نہیں کرسکے، میئر کراچی


کراچی: میں گھر میں زیر حراست تھا، تب ایک خط لکھ کر کھڑکی سے باہر پھینکا، باہر موجود ایک لڑکے نے اسے سپریم کورٹ کورئیر کیا، جس پر جسٹس ناصر اسلم زاہد نے ایم کیو ایم کے راہ نما اور آج کے رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری کی والدہ فیروزہ بیگم کی پیپلزپارٹی میں جبری شمولیت کا نوٹس لیا اور مقدمہ شروع ہوا15 اگست 2020کی ایک گرم دوپہر میں ہونے والی یہ گفتگو ڈیفنس کراچی کی پرشکوہ رہائش کے مکین شہر قائد کے میئر وسیم اختر سے ہے ہم سوالات کا پلندہ لیے بیٹھے ہیں اور ایک وسیع مہمان خانے میں ہمارا مکالمہ جاری ہے تلخ وترش سوالات کے باوجود جارحانہ مزاج کا تاثر رکھنے والے وسیم اختر ایک بار بھی برہم نہ ہوئے دوران ملاقات کبھی وہ ہمارے لیے چائے لینے اٹھتے، تو کبھی کوئی ضروری کاغذات اٹھا لاتے اور کبھی کوئی اور کام لیکن ان وقفوں کے ساتھ ہمارا ٹوٹ ٹوٹ جانے والا سلسلہ دوبارہ سے جڑ جاتا۔چلیے پہلے ان کی مندرجہ بالا ادھوری گفتگو کو ہی سمیٹتے ہیں۔ وسیم اختر دراصل 1994-95کے زمانے میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کر رہے ہیں، جس کا ماجرا ان کی اسیری کے ذیل میں نکل آیا تھا۔ وسیم اختر یہ دعوی کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے انہی کے خط پر یہ نوٹس لیا تھا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کا پہلا سوموٹو ہے، جو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس ناصر اسلم زاہد نے لیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں