0

پٹرولیم کمپنیوں کے شیئرز بیچنے میں 50 ارب نقصان کا خدشہ

اسلام آباد: نجکاری کمیشن بورڈ کی منظوری کے بعد پیٹرولیم کمپنیوں کے شیئر فروخت کرنے کی صورت میں 50 ارب روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ شہباز رانا نے بتایا کہ جو جلد بازی حکومت دکھانے جا رہی ہے اس سے لگتاہے کہ ایک اور اسکینڈل بننے جا رہاہے، اس میں50ارب کانقصان ہونے کاخدشہ ہے اور وہ بھی اس کیس میں جہاں منافع بخش ادارے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس میں کہانی یہ ہے کہ نجکاری کمیشن کے بورڈنے29 جولائی کوفیصلہ کیا کہ پاکستان پٹرولیم لیمیٹدکے دس فیصد شیئرز اوراو جی ڈی سی ایل کے سات فیصد شیئرز بیچے جائیں یہ فیصلہ اس کے باوجود ہوا کہ پٹرولیم ڈویژن کی سفارشات یہ ہیں کہ عالمی حالات کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی نہیں ہے اس لیے آپ بھی یہ شیئرز نہ بیچیں بلکہ بعد میں جب عالمی مارکیٹ بہتر ہو تو تب یہ اس صورت میں یہ شیئرز بیچے جائیں، اگر قیمت بہتر ملے۔عمران خان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے او جی ڈی سی ایل کے شیئر کی قیمت جمعے کو ایک سو نو روپے ہے اس پر اگرحکومت سات فیصد شیئر بیچے گی تواسے33ارب ملیں گے لیکن(ن)لیگ کی حکومت میں 2014 میں 216میں اس کاشیئر نہیں بیچا گیا، آج حکومت اسے آدھی قیمت پر بیچنے کیلیے تیارہے، پی پی ایل کے 5 فیصد شیئر کی قیمت اس وقت219روپے تھی جنھیں فروخت کرکے15.4ارب حاصل کیے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں