0

قومی اسمبلی اجلاس؛موٹروے زیادتی کیس پر حکومت اور اپوزیشن کی ایک دوسرے پر تنقید

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں موٹروے زیادتی کیس پر بحث کے بجائے بھی حکومت اور اپوزیشن کی ایک دوسرے پر تنقید ہی کرنے لگی۔
اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ جس میں اپوزیشن کی جانب سے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے اور سی سی پی او لاہور کے بیان کی شدید مذمت کی گئی جب کہ جواب میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن پر الزامات لگائے۔وزیراعظم کو کوئی پرواہ نہیںقائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ موٹروے واقعے پر ہر آنکھ اشک بار ہوئی، اس واقعے پر سب کے سر شرم سے جھک گئے، اس حوالے سے سی سی پی او کا بیان شرمناک ہے، پولیس افسر نے بیان دیا کہ پیٹرول نہیں تھا تو رات کے اندھیرے میں کیوں نکلی، پولیس افسر کے بیان سے پوری قوم کے دل زخمی ہوگئے، اداروں کی رپورٹ کہہ رہی تھی یہ پولیس افسر کرپٹ ہے لیکن ڈھٹائی کے ساتھ اس پولیس افسر کو سی سی پی او تعینات کیا گیا۔ شکر کی بات ہے کہ آج واقعے کا ایک مجرم گرفتار ہوگیا، حکومت اس بحث پر الجھی ہوئی تھی کہ موٹروے پر کس کا کنٹرول ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ زینب واقعے کو پی ٹی آئی نے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی تھی، موٹروے واقعے پر اپوزیشن پارٹیوں نے ذمہ داری کا کردار ادا کیا، اس واقعے پر سیاسی پارٹیوں نے کوئی سیاست نہیں کی، ہماری حکومت نے زینب واقعے میں 1300 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے تھے، نوازشریف کے دور میں پولیس ریفارمز کی گئیں، ڈولفن پولیس فورس اور فرانزک لیب نواز شریف کے دور میں بنا، پنجاب فرانزک لیب دنیا کی سب سے بڑی دوسری لیب ہے، پنجاب میں پولیس افسروں کی تعیناتیاں 95 فیصد میرٹ پر ہوتی تھیں، وزیراعظم کو کوئی پرواہ نہیں ہے، وزیراعظم کو کوئی پرواہ نہیں ہے، کمیٹی تشکیل دی جائے کہ موٹروے پر تعیناتی میں تاخیر کی کیا وجہ تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں