0

اسمارٹ فون اب ڈپریشن اور بے چینی کا اندازہ لگانے میں بھی مددگار

لندن: اب سماجی سرگرمیوں، اسمارٹ فون کے اسکرین ٹائم اور محلِ وقوع کی بدولت دماغ میں ان حصوں کی سرگرمی کو نوٹ کیا جاسکتا ہے جو جذبات و احساسات کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔ اس کیلیے ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا ہے جس میں فون کا ڈیٹا اور ساتھ میں فنکشنل ایم آر آئی (ایف ایم آر آئی) کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کا مقصد دماغ میں ایسی سرگرمیوں کو نوٹ کرنا ہے جو کسی طرح یاسیت، اداسی اور پریشانی سے وابستہ ہوتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب اسمارٹ فون ڈیٹا یعنی بیرونی عوامل کو دماغی اسکین یعنی اندرونی جسمانی عوامل سے ملاکر دیکھا گیا تو منفی کیفیات کی 80 فیصد تک درست پیشگوئی ممکن ہوئی۔اس تحقیق کی تفصیل یوبی کیوٹس کمپیوٹنگ کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی ہے ۔ پہلی مرتبہ یہ ممکن ہوا ہے کہ ایف ایم آر آئی اور اسمارٹ فون پر کی گی سرگرمیوں سے کے درمیان ربط دیکھا گیا ہے۔یونیورسٹی آف ڈارٹ ماتھ سے وابستہ پی ایچ ڈی محقق، میکیو اوبوچی کہتے ہیں کہ اسمارٹ فون کے استعمال کے سادہ ترین عمل سے دماغ کے پیچیدہ افعال کو سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ تو شروعات ہے جس میں ایف آیم آر آئی کے ساتھ اسمارٹ فون کی معلومات کو ملایا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے انسانی دماغ کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی، میکیو نے کہا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں