0

ڈیپارٹمنٹل کرکٹ سے مایوس ہوکر کھلاڑی بیرون ملک منتقل ہونا شروع

کراچی: پاکستان میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے مستقبل سے مایوس ہوکر کھلاڑیوں نے بیرون ملک منتقل ہونا شروع کر دیا۔زمبابوے کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 33 سالہ آل راونڈر رمیزراجہ جونیئر این بی پی میں ملازم تھے اور پی ایس ایل میں معروف فرنچائز کوئٹہ گلیڈیٹر کا بھی حصہ رہے ہیں جب کہ وہ بنگلا دیشں پریمیئر لیگ میں بیرسل بلز اسکواڈ میں بھی شامل تھے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ جونیئرکی بیرون ملک منتقلی سے لاعلم نکلی، بورڈ نے 30 ستمبر سے شروع ہونے والے قومی ڈومیسٹک سیزن کے لیے رمیزراجہ جونیئرکا نام سندھ ایسوسی ایشن کی ٹیم میں شامل کررکھا ہے۔ذرائع کے مطابق رمیز راجہ جونیئرکو امریکہ میں کھیلی جانے والی کرکٹ لیگ کے لیے مقامی کلب نے بھاری معاوضہ کے عوض 5 سالہ معاہدے کی پیش کش کی تھی جسیانہوں نے بخوشی قبول کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں