0

اے پی سی میں شریک اپوزیشن جماعتوں کا حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ

اسلام آباد: اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں نے آئندہ ماہ سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں حکومت کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جے یو پی کے اویس نورانی اور دیگر جماعتوں کے قائدین و رہنماں نے شرکت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کا قیام اے پی سی میں شریک اپوزیشن جماعتوں نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کا نام دیا گیا ہے، اے پی سی میں ملک گیر حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت اکتوبر میں احتجاج اور عوامی ریلیاں نکالی جائیں گی جس میں تمام اپوزیشن جماعتیں شریک ہوں گی۔ ملک میں آزاد شفاف نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جائے گا، دسمبر میں حکومت مخالف احتجاج کیا جائے گا اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حکومت کو صرف جنوری تک وقت دیا جائے گا، نئے انتخابات نہ کرانے پر دھرنا یا مارچ شروع کیا جائے گا، اس دوران اسمبلیوں سے مستعفی ہونا بھی آپشنز میں شامل ہوگا۔نواز شریف لندن سے اے پی سی میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے۔ اے پی سے جو بھی لائحہ عمل طے کرے گی (ن) لیگ اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔علاج کے لیے لندن روانگی کے بعد پہلی مرتبہ باضا بطہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے والے نواز شریف نے کہا کہ اختیار چند لوگوں کو دے دینا بددیانتی ہے، الیکشن کے نتائج میں تبدیلی نہ ہوتی تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی، دکھ کی بات ہے معاملہ ریاست سے اوپر تک پہنچ چکاہے، ملک میں ہر ڈکیٹیٹر نیاوسط نو سال حکومت کی، آئین پر عمل کرنے والے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی ووٹ سے جمہوری حکومت بننے پر ہاتھ پاوں باندھ دئیے جاتے ہیں، ہماری تاریخ میں 33سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہو گیا، 73سالہ تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پروا نہیں کی جاتی، عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے، پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔نواز شریف نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ مل کر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے، خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے، سوچنا چاہیے کیوں ہمارے قریبی ممالک ہم پر اعتماد کرنا چھوڑ گئے ہیں، شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت بیان دیے جس سے سعودی عرب ناراض ہوا، بھارت نے کٹھ پتلی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا ہے اور ہم احتجاج بھی نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا دنیا تو کیا اپنے دوست ممالک کی حمایت بھی حاصل نہ کر سکے، کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں، کیوں دنیا ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے، نالائق حکومت نے ہر معاملے ہر یوٹرن لیا، کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، ہماری خارجہ پالیسی ملکی مفادات سے متصادم نہیں ہونی چاہیے، سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا ہے جہاں کئی سال بیت جانے کے باجود روازنہ مسائل کا سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں