0

پاکستان کا عالمی مارکیٹ میں یورو بانڈ کے اجرا پر غور

اسلام آباد: ریکوڈک کیس میں عالمی بینک کی جانب سے حکم امتناع ملنے کے بعد پاکستان یوروبانڈز کے اجرا پر غور کررہا ہے۔
عالمی بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ)کی جانب سے ریکوڈک کیس میں6 ارب روپے جرمانے کے خلاف حکم امتناع ملنے کے بعد بانڈز کے اجراکی راہ میں بنیادی رکاوٹ ختم ہوگئی ہے اور پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچ رہا ہے۔ وزارت خزانہ دو ماہ میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں یورو بانڈز جاری کرنے کے مواقع تلاش کررہی ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں بانڈزکے اجرا سے 1.5 ارب ڈالر حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا تھا۔انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ ) نے بلوچستان میں آسٹریلوی کمپنی بارک گولڈ اور چلی کی کمپنی اینٹو فگاسٹا کی مشترکہ ٹیتھیان کاپر کمپنی ( ٹی سی سی ) کو بلوچستان میں ریکوڈک کے علاقے میں سونے اور تانبے کے ذخائرکی مائننگ لیز منسوخ کرنے پر پاکستان پر جولائی2019 میں 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا جس کے خلاف پاکستان نے اپیل کی تھی جس پر عارضی حکم امتناع جاری ہوا۔16 ستمبر 2020کو یہ مستقبل حکم امتناع میں تبدیل کردیاگیا۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقل حکم امتناع کی صورت میں پاکستان کو بہترین موقع میسر آیا ہے۔ پاکستانی سوورین بانڈز(sovereign bonds) اب سیکنڈری کیپیٹل مارکیٹوں میں پریمیئم حیثیت سے ٹریڈ کیے جارہے ہیں۔ چناں چہ پاکستان ایک اچھی ڈیل کرسکتا ہے اور بانڈز کے عوض ادھار رقم حاصل کرنے کی لاگت ماضی کے لین دین کے مقابلے میں زیادہ بھی نہیں ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں