0

کورونا ویکسین انہیلر وائرس کیخلاف زیادہ مہلک ہتھیار ہے، سائنسدانوں نے سر جوڑ لیے


کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ-19 کی ویکسین کی تیاری آخری مراحل میں ہیں جو عام ویکسین کی طرح مریضوں کے بازو میں لگائی جائے گی لیکن سائنس دان ویکسین کو انہیلر کی شکل میں بھی لانے پر غور کر رہے ہیں جو زیادہ موثر ثابت ہوسکتی ہے۔برمنگھم کی الاباما یونیورسٹی کے امیونولوجسٹ اور بائیوٹیک الٹیمیون کے ساتھ ویکسین پر کام کرنے والے فرانسس لند اور واشنگٹن یونیورسٹی کے انفیکشن ڈیزیز کے ماہر مائیکل ڈائمنڈ کچھ الگ سوچ رہے ہیں۔ یہ ویکسین کو بازو کے بجائے منہ اور ناک کے ذریعے انہیل کرنے کے حامی ہے۔ڈائمنڈ مائیکل کا دعوی ہے کہ اگست میں کی گئی چوہوں پر تحقیق سے یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ کورونا ویکسین کو منہ اور ناک کے ذریعے دیا جائے تو وہ زیادہ موثر ہوتی ہے کیوں کہ کورونا وائرس منہ اور ناک میں ہی جائے پناہ ڈھونڈتا ہے۔ اس سے وائرس کے جسم میں پھیلاو کو روکا جا سکتا ہے۔انسانی جانچ میں زیادہ تر ویکسین کی تاثیر کو دیکھنے کے لیے بازووں پر دو شاٹس کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ویکسین ڈویلپرز کو ابھی تک اس بات کا یقین نہیں ہے کہ وہ سانس لینے کے اعضا کے راستے جسم میں پھیل جانے والے وائرس کے خلاف بہتر مدافعتی ردعمل پیدا کرسکیں گے۔اس حوالے سے بائیوٹیک الٹیمیمون انکارپوریشن کے ساتھ کام کرنے والے برمنگھم کی الاباما یونیورسٹی کے محقق فرانسس لند نے کہا وہ ویکسین جو وائرس کے جسم میں داخلی راستوں میں ہی کارگر ثابت ہو اس ویکسین کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہوسکتی ہے جو صرف جسم میں داخل ہوجانے والے وائرس پر کارگر ہوتی ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں