0

مولانا عادل قتل کیس کی تحقیقات کیلئے 4 رکنی اعلی سطح ٹیم تشکیل

کراچی: آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے مولانا عادل خان اوران کے ڈرائیورکے قتل کی تحقیقات کے لیے کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی۔ٹیم میں ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد حامد اور ایس ایس پی کورنگی فیصل عبداللہ چاچڑ شامل ہونگے۔ تحقیقاتی ٹیم حساس اداروں سے بھی مدد لے سکتی ہے۔ ٹیم رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرے گی۔واضح رہے کہ وقوعے کی تین روز کے دوران ہونے والی تحقیقات میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ اب تک پولیس اندھیرے میں تیر چلا رہی ہے۔ 5 افراد کے تفصیلی بیانات لے چکی ہے جب کہ جائے وقوعہ کی سی سی فوٹیج بھی پولیس کے کام نہیں آسکی ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیے: مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کے ڈرائیورکے قتل کا مقدمہ 3 روز بعد درج اس سلسلے میں ڈی آئی جی ایسٹ نے عوام سے اپیل کی تھی کہ جائے وقوعہ پر موجود شہری اپنے بیانات ریکارڈ کراسکتے ہیں اور اگر کسی نے ملزمان کے چہرے واضع دیکھے ہیں تو وہ خاکے بھی بنواسکتے ہیں ۔ پولیس کی مدد کرنے والوں کے نام صغیہ راز میں رکھے جائیں گے۔ دوسری جانب جائے وقعے کے اطراف میں موجود مارکیٹ کے دکانداروں نے ایک ہی بیان دیا کہ وقوعے کے وقت وہ اپنے کاموں میں مصروف تھے انھوں نے صرف فائرنگ کی آواز سنی اورحملہ آواروں کو نہیں دیکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں