0

عدالت کا کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو رہا کرنے کا حکم


کراچی: عدالت نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔نے مزار قائد میں نعرے بازی کرنے کے کیس میں کیپٹن صفدر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم جاری کیا ہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا ہے اس لیے فوری طور پر خارج کیا جائے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعوی کیا تھا کہ کہ عدالت نے مزار قائد کی بے حرمتی کیس میں گرفتار ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور کرلی ہے۔کیپٹن صفدر کے وکلا نے دلائل دیے کہ مقدمے میں اسلحے کے زور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات شامل ہیں۔ مزار قائد کی سی سی ٹی وی اور وائرل وڈیو میں واضح ہے کہ انکے موکل کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر دائر ہوا اسے خارج کیا جائے۔جھوٹے مقدمات ہمارا راستہ نہین روک سکتے، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت سے رہائی کے بعد کیپٹن صفدر کا کہنا تھا کہ ہم ریاست کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔جھوٹے مقدمات ہمارا راستہ نہین روک سکتے۔ایک شخص جو پیرول پر ہے اس کی درخواست پر مقدمہ درج ہوا۔بیرونی ایجنڈوں پر کام کرنے والوں کے راستے روکیں گے۔انہوں نے کہا کہ مادرملت کے نعرے نہ لگائیں تو کیا آمروں کے نعرے لگائیں۔مادر ملت کا الیکشن چوری ہوا تھا مسلم لیگ کا الیکشن بھی چوری ہوا ہے۔ ہم نے مادر ملت کے قدموں میں کھڑے ہوکر عہد کیا تھا کہ جو پاکستان کمزور ہورہا ہے ہم مضبوط کریں گے۔حکومت سندھ کے پراسیکیوٹر نے ضمانت کی مخالفت کی تفصیلات کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف مقدمے میں تمام دفعات قابل ضمانت ہونے پر ضمانت منطور ہوئی۔ عدالت کی جانب سے از خود 506 زیر دفعہ بی ختم کردی۔وفاقی وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف سنگین الزامات ہیں ضمانت نہیں دی جائے۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی جانب سے ضمانت کی مخالف کی جب کہ سندھ حکومت کے پراسیکیوٹر کی جانب سے بھی ضمانت کی مخالفت کی گئی۔اس سے قبل عزیز بھٹی پولیس اسٹیشن نے کیپٹن (ر) صفدر کو بکتر بند گاڑی میں سٹی کورٹ میں پیش کیا۔ اس موقعے پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں