0

سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لے لیا


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لیتے ہوئے احتساب عدالت سے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات مانگ لیں۔سپریم کورٹ میں ڈائریکٹر فوڈ پنجاب محمد اجمل کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ عدالت نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب مقدمات میں ملزمان کو طویل عرصہ حراست میں رکھنا ناانصافی ہوگی۔سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ملزمان کے معاشرے یا ٹرائل پر اثرانداز ہونے کا خطرہ ہو تو ہی گرفتار رکھا جا سکتا ہے، پرتشدد فوجداری اور وائٹ کالر کرائم کے ملزمان میں فرق کرنا ہوگا، نیب ملزمان کے کنڈکٹ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے احتساب عدالت لاہور سے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات مانگتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آگاہ کیا جائے استغاثہ کے تمام 38 گواہان کے بیان کب تک ریکارڈ ہوں گے، عام طور پر نیب مقدمات میں تاخیر کیوں ہوتی ہے بتایا جائے، ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ اور بھی طریقے استعمال ہو سکتے ہیں، ان کے پاسپورٹ، بینک اکانٹس اور جائیداد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں