0

ملک میں کرپٹو کرنسی پر پابندی نہیں صرف ریگولرائزڈ نہیں کیا، اسٹیٹ بینک

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے ڈیجیٹل کرنسی کریپٹو پر پابندی سے متعلق درخواست پر تحریری جواب جمع کرانے کے لیے وفاقی حکومت کو آخری مہلت دے دی۔جسٹس کے کے آغا اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو ڈیجیٹل کرنسی کریپٹو پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار نے موقف دیا کہ ایف آئی اے ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اسے روکا جائے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف دیا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔اسٹیٹ بنیک کے وکیل نے موقف دیا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی نہیں لگائی۔ جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیئے آپ کہہ رہے ہیں ڈیجیٹل کرنسی میں کاروبار سے نہیں روکا؟ لیکن کسی کے تحفظ کے لیے کوئی گارنٹی بھی نہیں دے رہے؟درخواست گزار نے موقف دیا کہ اسٹیٹ بینک بٹ کوائن کا اکانٹ نہیں کھول رہا جس پر اسٹیٹ بینک کے وکیل نے موقف اپنایا کہ کریپٹو کرنسی کو ملک میں ریگولرئزاڈ نہیں کیا گیا اسٹیٹ بینک نے صرف وارننگ جاری کی ہے۔عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم کو ذاتی حیثیت سے طلب کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے وفاقی حکومت کو آخری مہلت دی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 دستمبر تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں