0

دو اشخاص کے جانے سے پارٹی کو فرق نہیں پڑتا، احسن اقبال

اسلام آباد: بلوچستان کے صوبائی صدر عبدالقادر بلوچ اور رکن سی ای سی ثنا اللہ زہری کے پارٹی سے الگ ہونے کے اعلان کے بعد ن لیگ کی قیادت کا ردعمل سامنے آگیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ ثنااللہ زہری صاحب گزشتہ دو سال سے غیرفعال ہوچکے تھے. ثنااللہ زہری بذات خود پارٹی کے سامنے شرمندہ تھے کہ وہ اپنی صوبائی حکومت کا دفاع نہیں کرسکے. ان کے ہاتھوں صوبائی حکومت ٹوٹ گئی تھی جس پر پارٹی نے انہیں سرزنش کی تھی.انہوں نے کہا کہ عبدالقادر بلوچ اور ثنااللہ زہری کی گفتگو سے عیاں ہے کہ انہیں پی ڈی ایم جلسہ میں اسٹیج پر کرسی نہ ملنے پر تکلیف ہے. پاکستان مسلم لیگ (ن) کی موجودہ تحریک کسی ایک نواب یا سردار کی سٹیج پر کرسی سے بڑی تحریک ہے. یہ پاکستان میں آئین کی سربلندی، پی ڈی ایم کے اتحاد کی تحریک ہے. سب جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہمارا مشن ہے.ان کا کہنا تھا کہ محض اسٹیج پر ایک کرسی نہ ملنے پر کوئی راہیں جدا کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فیصلہ ، تنگ نظری، ضد اور ذاتی انا ہے. پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اس قسم کے رویے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کی تنظیم مکمل طورپر اپنی جگہ کھڑی ہے۔ دو اشخاص کے جانے سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑا۔سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر صدر شاہد خاقان عباسی نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہ انہوں نے اپنی سیاست کو تباہ کیا ہے جو عزت ووقار تھا، اسے مجروح کیا ہے. اصل حقیقت سے وہ بھی واقف ہیں اور میں بھی واقف ہوں. ایک جلسے میں ثنااللہ زہری کو مدعونہ کرنے کو پی ڈی ایم کے بیانیہ سے ملانا قطعا غلط اور جھوٹی بات ہے. وہ اگرپارٹی چھوڑناہی چاہتے تھے تو استعفی دے دیتے ، بات ختم ہوجاتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں