0

عکسی ہاتھوں کی عجیب کیفیت کا پہلا مریض سامنے آگیا

لندن: دنیا میں ایک کمیاب ترین مرض ایسا ہے جب مریض ایک ہاتھ ہلاتا ہے تو عین اسی انداز میں دوسرا ہاتھ بھی ہلتا ہے۔ ایسے مریض زندگی میں پیانو بجانے، ٹائپنگ کرنے اور دیگر امور انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں کیونکہ کی بورڈ پر جو انگلی پڑے گی دوسرا ہاتھ بھی اس کی نقل کرتے ہوئے عین وہی کی دبائے گا۔اب بھارت کی ایک 19 سالہ بچی اس حال میں دیکھی گئی ہے جو پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد اور نایاب واقعہ بھی ہے۔ اس کیفیت کو عکسی حرکات (مِرر موومنٹ) کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ایک ہاتھ کی حرکت کا ہوبہو انداز دوسرے ہاتھ کا ہوتا ہے۔ لیکن یہی لڑکی ایک اور کیفیت کی بھی شکار ہے جسے ٹرنر سنڈروم کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ کیفیت اس وقت سامنے آئی تھی جب نامعلوم بچی کی عمر 13 برس تھی لیکن اب چھ برس بعد اس میں ٹرنر سنڈروم کا بھی انکشاف ہوا ہے۔اس طرح دونوں نقائص میں مبتلا یہ پہلا کیس بھی ہے کیونکہ بھارت کی 13 سالہ لڑکی ایک جانب ٹرنر سنڈروم کی شکار ہے تو دوسری جانب مرر موومنٹ بھی رکھتی ہے۔ اب چاہے وہ ایک ہاتھ سے چٹکی بجائے، اسے لہرائے، بند کرے یا کھولے دوسرا ہاتھ بھی عین یہی کرتا ہے۔ یعنی ایک ہاتھ کی گونج دوسرے ہاتھ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں