0

حکمرانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد میدان چھوڑنا گناہ کبیرہ ہے، فضل الرحمان


پشاور: سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کیخلاف اعلان جنگ کرچکیہیں اور میدان جنگ سے واپس جانا گناہ کبیرہ ہے۔پشاور میں حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کے جلسے میں حکومت کے خلاف خیبر پختون خوا کے عوام نے ریفرنڈم کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کرنیوالیکوبھی جانتیہیں۔ فوج کا ادارہ دفاع کے کام سے کام رکھے۔ آپ دھاندلی کریں وہ جرم نہیں ہم بات کریں توآپ خفاہوں؟ ہم آپ کو مہلت دیتے ہیں کہ اس حکومت کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ دوسال کے عرصے میں حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ جب ملک کی معیشت مستحکم نہیں رہتی تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ چند روز پہلے ہی اسٹیٹ بینک نے بیان جاری کیا ہے کہ 1951 کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی شرح نمو اعشاریہ چار فیصد پر آگئی ہے۔ اس پر کہتے ہیں کہ معیشت کی بہتری کے اشارے مل رہے ہیں میں پوچھتا ہوں یہ اشارے کہاں سے مل رہیہیں؟انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کیجلسوں سیحکمران اور ان کے پشتی بان بوکھلائے ہوئیہیں۔ ان کو یہاں سے ذلت و رسوائی کے ساتھ نکالنا ہے۔ ہم اعلان جنگ کرچکے ہیں اور اب میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی وجہ سے پاکستان تنہا ہوچکا ہے۔ آج دنیا کا کوئی ملک ہم سے تعلق رکھنے کو تیارنہیں۔ ایک وقت تھا کہ بھارتی وزیراعظم واجپائی نے لاہور آکر کر پاکستان کو بطور حقیقت تسلیم کیا۔ صرف اس لیے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط تھی اور وہ ہم سے تجارت چاہتے تھے۔ افغانستان آج آپ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار ن ہیں اورا ایران پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی لابی میں چلاگیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں