0

ڈیٹا محفوظ کرنے والے ٹرانسسٹر نہیں بلکہ ایٹم رسٹر


آسٹن: ٹیکساس یونیورسٹی کے ماہرین نے ڈیٹا محفوظ کرنے والا، دنیا کا سب سے چھوٹا آلہ ایجاد کرلیا ہے جو دو جہتی (ٹوڈی) مٹیریئل سے بنایا گیا ہے اور اس کی جسامت ایک نینومیٹر کے برابر ہے۔ سائنسدانوں نے اسے ایٹم رِسٹر کا نام دیا ہے، یعنی یہ ایک ایسا ٹرانسسٹر ہے جو ایٹمی پیمانے پر ڈیٹا محفوظ کرتا ہے۔یہ آلہ واحد (سنگل) ایٹموں کی حرکت سے کام کرتا ہے اور اس کی بدولت نہایت چھوٹے میموری آلات میں معلومات اور ڈیٹا کا ایک انبار رکھا جاسکے گا۔یہ آلہ برقیات کے بالکل نئے ابھرتے ہوئے شعبے میمرسٹر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں مزاحمتی سوئچ کے درمیان ڈیٹا رکھا جاتا ہے۔ جب ایک خاص مادے پر خاص وولٹیج دیا جاتا ہے تو اس کی برقی مزاحمت تبدیل ہوکر یا تو کمزور ہوجاتی ہے یا پھر مضبوط ہوجاتی ہے۔ اس مظہر کو ڈیٹا لکھنے اور مٹانے کیلیے استعمال کیا جاتا ہے؛ اور آخر میں اسی مزاحمتی عمل کو محفوظ شدہ ڈیٹا پڑھنے کیلیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔جب نینومیٹر پیمانے پر بنائے گئے سوراخوں میں سے ایک ایٹم باہر یا اندر جاتا ہے تو مٹیریئل کی موصلیت (کنڈکٹیوویٹی) بدلتی ہے۔ اس طرح سائنسی لحاظ سے ایٹمی سطح پر ڈیٹا کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس کیلیے مولبڈینم ڈائی سلفائیڈ کو استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن عین یہی عمل بہت سے مادوں پر آزما کر انہیں بھی ایٹم رِسٹر بنایا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں