0

2 سال میں ایک کروڑنوکریاں دینے کی بات ہی نہیں کی، وزیراعظم


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو انشااللہ پانچ سال میں ایک کروڑسے زائد نوکریاں ملیں گی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لوگوں کو انشااللہ پانچ سال میں ایک کروڑسے زائد نوکریاں ملیں گی اورگھربھی 50 لاکھ سے تجاوزکرجائیں گے۔ میں نے یہ وعدہ دو سال میں پورا ہونے کی بات نہیں کی تھی، یہ سب پانچ سال میں ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ جو لوگ پیسے لے کر تنقید کرتے ہیں وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ صحیح معنوں میں تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھنے والے اور پڑھے لکھے صحافی معاشرے
ان کا کہنا تھا کہ مجھے سلیکٹڈ کہنے والے رہنما خود سلیکٹڈ ہیں۔ نوازشریف اور آصف زرداری دونوں سلیکٹڈ تھے۔ بلاول بھٹو پرچی کی وجہ سے پارٹی میں آئے ہیں۔اعداد و شمار کو دیکھیں تو 2018 کے انتخابات 2013 کے مقابلے میں زیادہ شفاف تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ فوج کا دباو ہو تو مزاحمت بھی کروں، خارجہ پالیسی کے فیصلے میں کرتا ہوں۔ جو باتیں میرے منشور میں تھیں میں نے اس پر عمل درآمد کیا۔ افغانستان کے معاملے میں جو میرا موقف تھا آج وہی پاکستان کی پالیسی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کسی سابق فوجی افسر کو اگر کوئی عہدہ دیتے ہیں تو اس کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ فوج کا دباو ہے۔ عاصم باجوہ نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا تفصیل سے جواب دے دیا۔ ان کو سی پیک کی ذمے داری دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ سدرن کمانڈ کے کمانڈر رہے تھے اور سیکیورٹی ایشوز پر کام کرچکے تھے اس لیے ہمارا خیال تھا کہ وہ اس ذمے داری کے لیے بہترین آدمی ہیں۔انہوں ںے کہا کہ جس نے بھی اپنی زندگی میں مقابلہ کیا ہو وہ یوٹرن کا مطلب سمجھتا ہے۔ حالات کے ساتھ ساتھ حکمت عملی تبدیل کی جاتی ہے۔ میرا نظریہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے اور میں اسی مقصد کے لیے ایک طریقہ ناکام ہوگا تو دوسرا اختیار کروں گا۔اپوزیشن کے خلاف نیب کیسز کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تمام کیسز ہمارے آنے سے پہلے بنائے گئے تھے۔ نیب ہمارے ماتحت نہیں ہمارا اختیار صرف جیلوں پر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں