0

حکومت نے اسحاق ڈار کا انٹرویو ملک دشمنی کے مترادف قرار دے دیا


اسلام آباد: مشیر داخلہ شہزاد اکبر اور معاون خصوصی شہباز گِل نے اسحاق ڈار کے غیر ملکی چینل کو انٹرویو کو ملک دشمنی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا باہر بیٹھ کر ملک کے اداروں کے خلاف بولتے ہیں۔وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے اسحاق ڈار کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو پر اسلام آباد میں شہباز گل کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی پر مفرور شخص کے انٹرویو سے عوام محظوظ ہوئے، گزشتہ روز مفرور اسحاق ڈار نے کہا میری ایک ہی پراپرٹی ہے، اسحاق ڈارغیرملکی صحافی کے سوالات کا جواب نہیں دے سکے، وہ اگر پاکستان آجاتے تو عدالتوں کے سوالات کا جوابات کیسے دیتے، سابق وزیرخزانہ نے کہا نیب کی حراست میں درجنوں لوگ انتقال کرگئے، لیکن کسی کو پتا نہیں چلا، انہیں بلا کر اس بارے میں پوچھنا چاہیے، وہ کسی ایک شخص کا ہی نام بتا دیں۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے انٹرویو میں کئی مضحکہ خیز باتیں کیں، انہوں نے جائیداد سے متعلق جھوٹ بولا کہ میری ایک جائیداد ہے جس پر حکومت نے قبضہ کرلیا، حالانکہ ان کی پاکستان میں اور بیرون ملک متعدد جائیدادیں ہیں، اسلام آباد میں ان کی 6 ایکڑ زمین اور ڈی ایچ اے میں گھر ہے، الفلاح ہاسنگ سوسائٹی میں 3 پلاٹ ہیں، 8 گاڑیاں ہیں، اس کے علاوہ کچھ کمپنیاں بھی ہیں اور کچھ میں پارٹنر شپ ہے، اسحاق ڈار کے کافی بینک اکانٹس ہیں جن میں رقم موجود ہے، ان سے متعلق یہ معلومات جے آئی ٹی میں سامنے آئی تھیں، بی بی سی ہم سے رابطہ کرتا ہم ایف بی آر سے تفصیلات بھیج دیتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں