0

وزیر اعلی خیبرپختونخوا عوام کو سہولت نہیں دے سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں، چیف جسٹس


اسلام آباد: کے پی کے میں ویسٹ مینجمنٹ نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نالے کھودنے کے لیے ایشین ڈولپمنٹ بینک سے پیسے لیتے ہیں، اگر وزیراعلی کے پی کے عوام کو سہولت نہیں دے سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا کے صنعتوں اور اسپتالوں کے ویسٹ منیجمنٹ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا ڈرینیج کے نالے دریاں اور ندیوں میں جاتے ہیں ان کا کیا کریں گے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے شمائل بٹ نے کہا کہ پشاور میں ڈرینیج کے دو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس بن رہے ہیں، نہروں کے ساتھ الگ سے سیوریج لائنز بنائی جائیں گی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا2018 سے کیس سپریم کورٹ میں ہے اور آپ کے پاس اب تک کوئی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں بنا،جس پر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد نے عدالت کو بتایاکہ ایشین ڈولپمنٹ بینک ویسٹ منیجمنٹ منصوبے کے لیے 475 ملین ڈالر رقم دے گا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاآپ کو معلوم بھی ہے 400 ملین ڈالر کتنے ہوتے ہیں؟ پورے خیبرپختونخواہ کو 400 ملین ڈالر ملیں تو اس کی قسمت بدل جائے، آپ کے پاس ویسٹ منیجمنٹ سے متعلق کیا پلان ہے؟ منصوبہ کب مکمل ہو گا؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں