0

ان خاص ٹماٹروں میں پارکنسن بیماری کی دوا ہے


لندن: برطانوی سائنسدانوں نے جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ایسے ٹماٹر اگالیے ہیں جن میں دماغ کی ایک بیماری پارکنسن کی دوا ایل ڈوپا موجود ہے۔ اوپر کی تصویر میں بھی وہی ٹماٹر دکھائے گئے ہیں۔آسان الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ اگر پارکنسن کے مریضوں کو روزانہ یہ ٹماٹر کھلائے جائیں تو انہیں ایل ڈوپا کی گولیوں اور کیپسول کی ضرورت نہیں رہے گی۔ریسرچ جرنل میٹابولک انجینئرنگ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ناروِچ، برطانیہ میں واقع جان انس سینٹر کے ماہرین نے کئی سالہ تحقیق کے بعد ایسے ٹماٹر اگانے میں کامیابی حاصل کی ہے جن میں کوئی دوا موجود ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں کہ جینیاتی انجینئرنگ یا جینیاتی ترمیم (جینیٹک موڈیفکیشن) کے ذریعے پودوں کو اس قابل بنالیا جائے کہ وہ اپنے پتوں اور پھلوں میں خود ہی کوئی دوا پیدا کرنے لگیں۔ البتہ یہ پہلا موقع ضرور ہے کہ دوا بردار ٹماٹر اگانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔اب تک تمباکو کے پودے کو اس معاملے میں سب سے نمایاں مقام حاصل ہے جسے جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے زکام اور پولیو ویکسین سے لے کر اندرونی سوزش اور سوجن ختم کرنے والے پروٹین تک تیار کرنے کے قابل بنایا جاچکا ہے

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں