0

یہ انوکھی مچھلی اپنے پالتو جانور رکھتی ہے


کوئنز لینڈ: انسان ہزاروں سال سے جانوروں کو پال کر اپنے کام کرتا آرہا ہیلیکن سمندر میں پہلی مرتبہ کسی جانور کی جانب سے دوسرے جانور کو پال کر اپنا کام نکلوانے کا ثبوت ملا ہے۔یہ ایک طرح کی مچھلی ہے جس کا نام فارمر فش ہے۔ آسٹریلوی ماہرین نے کہا ہے کہ یہ چھوٹے شرمپ کو بھرتی کرکے ان سے الجی کے ذخائر بنواتی ہے۔اس سے قبل بعض اقسام کی چیونٹیاں ایک قسم کے ایفڈ کیڑے کو پالتی ہیں جنہیں تلے بھی کہا جاتا ہے۔ چیونٹیاں کیڑوں کو شیرہ پلاتی ہیں اور اس کے بدلے وہ چیونٹیوں کو حملہ آور جانوروں سے بچاتی ہیں اور یہ عمل حیاتیات کی زبان میں ہم زیستگی (سمبایوسِس) بھی کہلاتا ہے۔اب گرفتھ اور ڈیکن یونیورسٹیوں کے ماہرین نے بیلز کے مقام پر مرجانی چٹانوں میں ایک مچھلی دیکھی ہے جس کا پورا نام لانگ فِن ڈیمسیلفش ہے اور وہ مائسڈ نامی شرمپ کو پال کر ان سے کام کرواتی رہتی ہیں۔ یہ مچھلیاں اپنی غذا کے لیے الجی کا ڈھیر بناتی ہیں۔ یہاں شرمپ کا فضلہ فصل کی افزائش بڑھاتا ہے۔ اس کے بدلے شرمپ کو رہنے کی محفوظ جگہ ملتی ہے۔ جب کوئی شرمپ کو کھانے آتا ہے تو مچھلی اس جانور کے پیچھے لگ جاتی ہے اور اسے بھگا کر دم لیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں