0

آئین کسی رکن پارلیمنٹ کو پارٹی لائن کیخلاف ووٹ دینے سے نہیں روکتا، سپریم کورٹ


اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ آئین کسی ممبر کو پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے سے نہیں روکتا۔سپریم کورٹ میں سینیٹ انتحابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ وکیل رضا ربانی نے کہا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں آچکا ہے، حکومت بھی سمجھتی ہے کہ آئین میں ترمیم کرنا ہوگی، ایسا نہ ہو کہ دو آئینی ادارے آمنے سامنے آجائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت ریفرنس واپس لے تو ٹھیک ورنہ عدالت اپنی رائے دے گی، آپ کی بات مان لیں تو آرٹیکل 186 غیر موثر ہو جائے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس پر جواب دینے کے سو راستے ہوسکتے ہیں، ایک راستہ ہے کہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، دوسرا راستہ ہے کہ آئینی ترمیم کرنا ہو گی، دونوں صورتوں میں عدالت اور پارلیمان آمنے سامنے کیسے ہوں گے؟، کیا آئین کی تشریح کرنا عدالت کا کام نہیں؟۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں 101 آرٹیکلز ترمیم کیے گئے جبکہ میثاق جمہوریت میں کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں