0

ماں کے خون سے بچے میں آٹزم کی 100 فیصد نشاندہی کرنے والا ٹیسٹ


ڈیوس: ترقی پذیر ممالک میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہے اور اسی طرح پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس مرض کا پورا نام آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر(اے ایس ڈی) ہے جسے شناخت کرنے کا ایک نہایت قابلِ اعتبار ٹیسٹ وضع کیا گیا ہے۔جامعہ کیلیفورنیا، ڈیویس اور اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے 450 ایسی ماں کے خون میں پلازما کا جائزہ لیا جن کے بچے آٹزم کے شکار ہوئے تھے۔ ساتھ ہی 342 مائیں ایسی تھیں جن کے بچے اس تکلیف دہ کیفیت سے آزاد تھے۔ماہرین نے ELISA نامی ایک ٹیکنیک سے خاص اینٹی باڈیز اور پروٹین کا جائزہ لیا۔ معلوم ہوا ہے کہ بعض حاملہ خواتین میں 8 کے قریب ایسے پروٹین پائے جاتیہیں جو دورانِ حمل ان میں غیرضروری امنیاتی ردِ عمل جگاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پیٹ میں موجود بچے کا دماغ شدید متاثر ہوتا ہے اور وہ آٹزم جیسے عمر بھر کے روگ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس طرح معلوم ہوا کے حمل کیدوران پل پل بڑھتا ہوا بچے کا دماغ پروٹین اور اینٹی باڈیز سے یہاں تک متاثر ہوسکتا ہے کہ وہ آٹزم کا شکار ہوجاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں