0

امپورٹر کمپنیوں نے کارٹل بنالیا، کھاد کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ


لاہور: کھاد امپورٹ کرنے والی بڑی کمپنیوں نے کارٹل بنا کر آف سیزن میں ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا جبکہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت کی اطلاعات بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 22 لاکھ ٹن سے زائد ڈی اے پی کھاد استعمال ہوتی ہے جس میں زیادہ حصہ پنجاب میں استعمال کیا جاتا ہے، حکومت نے ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا ہوا ہے اور پاکستان کے چار یا پانچ بڑے ادارے ملکی ضروریات کے مطابق اسے امپورٹ کرتے ہیں۔امپورٹرز نے چند ماہ قبل سستے داموں ڈی اے پی امپورٹ کی تھی لیکن اب عالمی منڈی میں کھاد قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا رجحان ہے جس کے سبب امپورٹرز نے مقامی مارکیٹ میں مصنوعی قلت کا ماحول بنا رکھا ہے۔نومبر دسمبر میں ڈی اے پی کھاد 3800 روپے میں فروخت ہو رہی تھی جو جنوری میں بڑھ کر 4200 روپے تک جا پہنچی اور اس وقت ڈی اے پی کھاد 4700 تا4800 روپے میں فروخت ہو رہی ہے،اس مصنوعی مہنگائی کے سبب زرعی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔زرعی ماہرین کے مطابق جنوری میں قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ نہیں ہوا تھا اس لیے گندم کی فصل کے لیے ڈی اے پی مطلوبہ مقدار میں استعمال ہو چکی ہے تاہم آنے والی فصلوں کے لیے یہ مہنگائی نقصان دہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں