0

سینیٹ انتخابات: کسی جماعت کو اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے، سپریم کورٹ


اسلام آباد: جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا، کسی جماعت نے اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ووٹرز کے لیے ضابطہ اخلاق جمع کروا چکے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے قیام کا مقصد تمام صوبوں کی یکساں نمائندگی ہے، پارلیمانی نظام میں دونوں ایوان کبھی اتفاق رائے سے نہیں چلتے، لازمی نہیں کہ وفاق میں حکومت بنانے والی جماعت کی صوبے میں بھی اکثریت ہو، اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے بھی سینیٹ میں نشستوں کا تناسب بدل سکتا ہے، متناسب نمائندگی کے نقطے پر تفصیلی موقف دوں گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ متناسب نمائندگی کا ذکر آرٹیکل 51 اور ارٹیکل 59 دونوں میں ہے، سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے بھی متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا، کسی جماعت نے اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں