0

یہ 15 افراد 40 دن تک گہرے غار میں رہیں گے… لیکن کیوں؟


پیرس: فرانس کے ایک بڑے، گہرے اور تاریک غار میں 15 رضاکاروں کو اتار دیا گیا ہے جو وہاں 40 دن تک الگ تھلگ رہیں گے؛ جبکہ ان کے پاس موبائل فون اور گھڑی سمیت ایسا کوئی آلہ نہیں ہوگا کہ جس سے وقت کا پتا چل سکے یا وہ بیرونی دنیا سے رابطے میں رہ سکیں۔صرف دو روز پہلے، یعنی 14 مارچ 2021 کو شروع ہونے والے اس دلچسپ سائنسی تجربے کو ڈیپ ٹائم کا نام دیا گیا ہے جس میں 8 مرد اور 7 خواتین رضاکار شریک ہیں۔ اس کا اختتام 40 روز بعد، 22 اپریل کو ہوگا۔تجربے کا مقصد دو باتوں کے بارے میں خاص طور پر جاننا ہے: پہلی یہ کہ طویل عرصے تک ساری دنیا سے مکمل طور پر کٹ کر رہنے کے نتیجے میں انسان کی جذباتی کیفیت اور اکتسابی صلاحیت پر کیا اثر پڑتا ہے؛ اور دوسری یہ کہ وقت ا تعین کرنے والے کسی بھی بیرونی ذریعے کی غیر موجودگی میں انسانوں کو وقت کا بہا کیسا محسوس ہوتا ہے۔اگرچہ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے پہلا تجربہ بھی قرار دیا جارہا ہے لیکن 1960 سے اس طرح کے مختلف تجربات کیے جاتے رہے ہیں جن میں ایک یا ایک سے زیادہ رضاکاروں نے کسی گہرے غار میں، وقت کا حساب رکھے بغیر، چند دنوں سے چند مہینے تک گزارے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں