0

تجربہ گاہ میں آنسو بہانے والے غدود کی تیاری

تجربہ گاہ میں آنسو بہانے والے غدود کی تیاری
اترخت: ہالینڈ کے سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں پہلی بار وہ غدود کاشت کیے ہیں جو آنکھوں میں آنسو پیدا کرتے ہیں۔واضح رہے کہ آنکھوں میں آنسوں کا بنتے رہنا اور وقفے وقفے سے خارج ہونا ہماری صحت کیلیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے ہماری آنکھیں مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ آنکھوں کی صفائی بھی ہوتی رہتی ہے۔ہالینڈ کی دی رائل نیدرلینڈز اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کی سرپرستی میں کی گئی اس تحقیق میں سب سے پہلے جینیاتی انجینئرنگ کی جدید ترین ٹیکنالوجی کرسپر (CRISPR) سے استفادہ کرتے ہوئے وہ جین شناخت کیے گئے جو انسانوں اور چوہوں کی آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود میں اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔بعد ازاں ہر فن مولا خلیے، یعنی خلیاتِ ساق (stem cells) استعمال کرتے ہوئے پیٹری ڈش میں آنسو بنانے والے مخصوص خلیات تخلیق کرکے انہیں غدود کی شکل میں کامیابی سے یکجا کیا گیا۔تجربہ گاہ کے ماحول میں ان غدود نے ٹھیک ویسے ہی آنسو بہائے جیسے قدرتی آنکھ سے آنسو نکلتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں