0

برطانیہ اور جنوبی افریقہ کا تبدیل شدہ وائرس پاکستان میں پھیل رہا ہے، تحقیق


کراچی: ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے تحت کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق کورونا وائرس (کووڈ 19)کی تیسری لہر زیادہ خطرناک ہے کیونکہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ کا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس پاکستان میں پھیل رہا ہے۔ کسی ممکنہ خطرناک صورت حال سے پچنے کیلیے اس وبائی صورتِ حال پر فورا قابو پانے کی ضرورت ہے۔یہ بات بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کومسٹیک کے کوآرڈی نیٹر جنرل، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے جمعرات کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی اور جمیل الرحمن سینٹر فار جینوم ریسرچ کے کووِڈ 19 سے متعلق تحقیقی پروجیکٹس کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کی نئی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس مثبت کیسز کے 50 فیصد کیسز برطانیہ کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس ہیں جبکہ 25 فیصد جنوبی افریقہ کے وائرس سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کا سبب حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزیاں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس بہت طاقتور ہیں جو بہت مختصر وقت میں ملک کی بڑی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں