0

دال کے دانے جتنا سینسر، جو جسمانی گہرائی میں آکسیجن ناپ سکتا ہے


برکلے، کیلیفورنیا: جدید برقیات کی بدولت اب صرف دال کے دانے جتنا آلہ بنایا گیا ہے جو جسم کی گہرائی میں جاکر وہاں آکسیجن کی مقدار نوٹ کرسکتا ہے۔ اس کی بدولت منتقل کردہ جسمانی اعضا کی کارکردگی اور صحت کو دیکھا جاسکتا ہے۔اس سے قبل ہم مقناطیسی گمک کی طیف نگاری (میگنیٹک ریزوننس امیجنگ) کو استعمال کرتے رہے ہیں لیکن اس سے چند سینٹی میٹر گہری بافتوں میں ہی جھانک کر وہاں آکسیجن کا احوال دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اب نئے سینسر سے بدن کی مزید گہرائی تک کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، برکلے کے سائنسدانوں نے بہیر بوٹی کیڑے جتنا ایک وائرلیس سینسر بنایا ہے جسے اعصابی گرد کا نام دیا گیا ہے۔ یہ حقیقی وقت میں اعصابی سگنل اور پٹھوں کی کارکردگی نوٹ کرتا ہے۔ یہ عضلات کی برقی سرگرمی میں اتار چڑھا کو نوٹ کرکے اس کی معلومات الٹراسانڈ کی صورت میں جسم سے باہر موجود ایک آلے کو بھیجتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت جلد یہ پٹھوں کے درد اور مرگی وغیرہ کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں