0

وزیراعظم کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس، وزیراعلی سندھ کا احتجاج


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں چاروں وزرائے اعلی اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں مالی سال22 -2021 کیلیے وفاق اور صوبوں کے لیے 2100 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی گئی ہے، جب کہ شرح نمو کا ہدف بھی 4 اعشاریہ 8 فیصد مقرر کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں وفاق کاحصہ 900 ارب اور صوبوں کا حصہ 1200 ارب روپے ہوگا۔اجلاس میں وزیراعلی سندھ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ترقیاتی بجٹ کم دیا جارہا ہے، انہوں نے اس معاملے پراختلافی نوٹ جمع کروانے کا اعلان بھی کیا۔وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں پرعمل درآمد کی رفتار میں تیزی لائی جائے تاکہ معاشی استحکام کے ثمرات شرح نمو پر مرتب ہوں۔اجلاس میں مالی سال 2021-22 کے لیے میکرواکنامک فریم ورک کی منظوری دی گئی، آئندہ مالی سال میں زراعت میں اضافے کا ہدف 3 اعشاریہ 5فیصد، صنعتی شعبے میں 6اعشاریہ 5 فیصد جب کہ خدماتی شعبے میں 4 اعشاریہ 8 فیصد ہوگا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ نظر ثانی تخمینوں کے مطابق 1527 ارب روپے رہے گا۔ جس میں سے 244 ارب ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن، 118 ارب روپے توانائی، 91 ارب روپے آبی وسائل، 113 ارب روپے سوشل سیکٹر، 100 ارب روپے علاقائی مساوات، 31 ارب روپے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر، 68 ارب روپے ایس ڈی جیز جب کہ 17 ارب روپے پروڈکشن سیکٹر پر خرچ کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔جب کہ پی ایس ڈی پی کا محور انفراسٹرکچر کی بہتری، آبی وسائل کی ڈیولپمنٹ، سماجی شعبے کی بہتری، علاقائی مساوات، اسکل ڈیولپمنٹ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے فروغ اور ماحولیات کے حوالے سے اقدامات ہوں گے۔ پی ایس ڈی پی میں حکومتی پالیسی کے مطابق ان علاقوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس ضمن میں جنوبی بلوچستان، سندھ کے بعض اضلاع، گلگت بلتستان کے لیے مناسب فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں