0

بحیرہ مردار کے قریب خلائی مرکب کی دریافت


سینٹ پیٹرزبرگ: روسی ماہرین نے اسرائیل میں دنیا کی نمکین ترین جھیل بحیرہ مردار کے قریب سے ایک ایسا معدنی مرکب دریافت کیا ہے جو آج تک صرف آسمان سے زمین پر گرنے والے شہابیوں میں ہی پایا گیا ہے۔ایلابوگڈینائٹ (Allabogdanite) نامی یہ مرکب فاسفورس پر مشتمل ہوتا ہے جو پہلی بار آج سے تقریبا بیس سال قبل، روس سے ملنے والے ایک چھوٹے شہابِ ثاقب میں دریافت ہوا تھا۔ اس شہابِ ثاقب میں لوہے کی وافر مقدار موجود تھی۔اس مرکب کو اپنی دریافت کنندہ سائنسدان، ایلا بوگدانووا کے نام پر ایلابوگڈینائٹ کا نام دے دیا گیا۔برسوں بعد یہی خلائی مرکب ایک بار پھر زمین پر دریافت ہوا ہے، لیکن اب کی بار یہ اسرائیل میں بحیرہ مردار کے قریب واقع، اس علاقے سے ملا ہے جسے آثارِ قدیمہ کے ماہرین قومِ لوط کا علاقہ قرار دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں