0

سپریم کورٹ نے انسداد جنسی ہراسگی کے قانون پر سوالات اٹھا دیے


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ملک میں رائج جنسی ہراسگی قانون پر سولات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دفاتر میں خواتین کی انسداد جنسی ہراسگی کا قانون صرف دکھاوا ہے۔ سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی ویژن میں مبینہ جنسی ہراسگی کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے خاتون ملازم کی جانب سے اپنے افسران کے خلاف جنسی ہراسمنٹ کے الزام کو غلط قرار دے دیا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ خاتون شکایت کنندہ افسران پر جنسی ہراسگی ثابت کرنے میں ناکام رہیں، انکوائری کمیٹی الزام ثابت نہ ہونے پر شکایت کنندہ کے خلاف کارروائی کی سفارش کرسکتی ہے، کارروائی کی سفارش پر شکایت کنندہ کے خلاف دادرسی کا کوئی فورم نہیں۔فیصلے میں عدالت نے انسداد جنسی ہراسگی قانون پر شدید تنقید بھی کی اور کہا کہ دفاتر میں خواتین کی انسداد جنسی ہراسگی کا قانون صرف دکھاوا ہے، سال 2010 میں بنائے گئے قانون پر عمل درآمد دراصل چشم پوشی کے مترادف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں