0

بھارت افغانستان میں اپنی پاکستان مخالف سرمایہ کاری ڈوبنے پر پریشان ہے، ترجمان پاک فوج


راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغانستان میں بیس سال سے بندوق فیصلہ نہیں کرسکی۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے افغانستان کی صورت حال پر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کر رہا ہے، اب خطے اور افغانستان کے فریقین کو ہی مل بیٹھ کرمسئلے کا حل نکالنا ہوگا،اگرچہ امریکا نے افغان فوج کی تربیت پر بہت پیسے خرچ کیے، لیکن اس وقت افغان فوج پیشرفت نہیں کر رہی، اب تک خبروں کے مطابق طالبان کی پیشرفت زیادہ ہے، ان کے مقابلے میں افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرے گی یہ دیکھنا ہوگا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم امن عمل کیلئے کوشش کرتے رہے اور کرتے رہیں گے، دنیاکوپوری طرح معلوم ہوچکاہیافغانستان مسئلیکاامن کیساتھ میزپربیٹھ کر حل نکالنا چاہئے، اب افغانستان نے آگے کیسے بڑھناہے فیصلہ وہاں کے عوام نے کرناہے، پاکستان نے خلوص نیت سے افغان امن عمل بڑھانے کی کوشش کی، امن عمل آگے بڑھانے میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا، پاکستان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا، افغانستان کے فریقین کو مل بیٹھ کرمسئلے کا حل نکالنا ہوگا، فیصلے بیٹھ کر کرنے ہوں گے، بندوق فیصلہ نہیں کر سکتی، افغانستان میں بیس سال سے بندوق فیصلہ نہیں کرسکی، ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار ہے ضامن نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں