0

اسلام آبادمیں کلاؤڈ برسٹ نہیں ہوا، محکمہ موسمیات

اسلام آباد(سٹی رپورٹر)وفاقی دارالحکومت میں کلاؤڈ برسٹ نہیں ہوا۔معمول سے زیادہ بارش تھی۔
محکمہ موسمیات نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 26 جولائی کو موسم کی صورتحال کے حوالے سے پیش گوئی جاری کی جاچکی تھی یہ معمول سے زیادہ بارش تھی جسے کلاؤڈ برسٹ نہیں کہا جاسکتا۔
منگل کوصبح سویرے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اسلام آباد میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث مختلف علاقوں میں سیلاب آگیا ہے، ٹیمیں نالوں / سڑکوں کو صاف کررہی ہیں، اُمید ہے کہ ہم ایک گھنٹے میں سب کچھ کلیئر کردیں گے۔
فاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس سے منسلک راولپنڈی میں موسلا دھار بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس سے سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ پیدا ہوگیا اور گھر میں پانی داخل ہونے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔
محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کے ایک سیکٹر میں ہونے والی بارش کو، جسے غیرمعمولی واقعہ قرار دیا جارہا ہے، بادل پھٹ جانے یا کلاؤڈ برسٹ کا مظہر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
محکمہ موسمیات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 28 جولائی 2021 بروز بدھ کو صبح ساڑھے چار سے سات بجے کے درمیان، سید پور میں 123 ملی میٹر، گولڑہ میں 101 ملی میٹر، بوکرہ میں 19 ملی میٹر، شمس آباد میں 29 ملی میٹر اور چکلالہ میں 15 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کو رین گش اور رین گسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرکسی چھوٹے علاقے میں مختصر وقفے میں شدید بارش ہوجائے تو اسے کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مخصوص علاقے میں ایک گھنٹے میں کم سے کم 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جائے لیکن آج اسلام آباد کے کسی بھی علاقے عین ایک یا دو گھنٹے کے دوران 121 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ نہیں ہوئی ہے۔ کلاؤڈ برسٹ میں غیرمعمولی بجلی اور بادلوں کی گرج بھی پیدا ہوتی ہے۔
منگل کوموسلادھار بارش سے سب سے زیادہ اسلام آباد کا علاقہ سیکٹر ای-11 متاثر ہوا جہاں پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ پانی کے ریلے میں بہہ کر درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
پولیس حکام کے مطابق سیکٹر ای-11 ہاؤسنگ سوسائٹیز پر مشتمل سیکٹر ہے اور یہاں پولیس فاؤنڈیشن کے پیٹرن انچیف سیکریٹری داخلہ خود ہیں، جہاں سوسائٹی انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
حکام کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سوسائٹی انتظامیہ کی کوئی بھی مشینری موجود نہیں تھی بعدازاں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) انتظامیہ نے سیکٹر ای-11 میں ہنگامی بنیادوں پر سیلابی پانی کو نکالنے کے لیے کام کیا۔حکام کا کہنا تھا کہ سیکٹر ای-11 کے ایک گھر کی بیسمنٹ میں رہائش پذیر خاندان سے تعلق رکھنے والے ماں اور بیٹا پانی بھر جانے کے باعث جاں بحق ہوگئے۔
ادھربھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میسے ملنے والی میڈیارپورٹ کے مطابق بدھ کی علی الصباح پہاڑی ضلع کشتوار کے ایک دور دراز گاؤں میں بادل پھٹنے کے بعد سیلاب میں بہہ کر7 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے ہیں جب کہ 26 لاپتا ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں