0

افغانستان میں تزویراتی گہرائی پالیسی ماضی کاقصہ ہے، عمرا ن خان

اسلام آباد۔پاکستان نے کہاہے کہ افغانستان میں تزویراتی گہرائی کی پالیسی ختم ہوچکی ہے، افغانستان کو باہرسے کنٹرول نہیں کیاجاسکتا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ افغان عوام جسے منتخب کریں گے ہمارے اس کے ساتھ بہترین تعلقات ہوں گے، ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں اور نہ نوے کی دہائی کی طرح اب افغانستان میں تزویراتی گہرائی (اسٹریٹجک ڈیپتھ) جیسی کوئی پالیسی ہے۔
اسلام آباد میں پاک افغان یوتھ فورم کے تحت وزیراعظم کا افغان صحافیوں کے ساتھ سوال جواب کا سیشن منعقد کیا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ میں افغانستان گیا ہوں، افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں اور ہمارے باہمی تعلقات بھی اچھے ہیں لیکن افغان رہنماؤں کے حالیہ بیانات میں افغانستان کی صورتحال کا الزام پاکستان پر لگایا گیا جو کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کو پہلے امریکا کے ساتھ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے مذاکرات کی میز پر لانینے کے لیے پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے دباؤ نہیں ڈالا،ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی اور کسی ملک نے اتنی محنت نہیں کی جتنی ہم نے کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس بات کی تصدیق امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کی۔افغانستان کے بارے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت میں کتنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں ایک احساس یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے اور بدقسمتی سے اسے بھارت نے جان بوجھ کر پروان چڑھایا۔
وزیراعظم کاکہناتھاکہ میری حکومت کی خارجہ پالیسی گزشتہ 25 برسوں سے میری پارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کا کوئی عسکری حل نہیں، ہمیں ہمیشہ کہا کہ بالآخر افغانستان کا مسئلہ سیاسی تصفیے کے ذریعے حل ہوگا، میری حکومت کا 3 سال سے یہی مؤقف ہے جو میں 15 سال سے کہ رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام افغان عوام کو پڑوسیوں کے بجائے بھائی سمجھتے ہیں جنہوں نے 40 سال مشکلات برداشت کی ہیں، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو امن کی اشد ضرورت ہے۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خانہ جنگی کے اثرات پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی ہوں گے، ہماری پالیسی ہے کہ اب افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، پاکستانی کوششو ں کے باوجود افغان رہنماؤں کا پاکستان کو افغان بحران کا ذمہ دار ٹھہرانا افسوسناک ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خانہ جنگی جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے قبائلی اضلاع پر پڑیں گے اور جب ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اس کے نتیجے میں جنگ کے اثرات ہمارے قبائلی اضلاع پر آئے اور 70 ہزار پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
اور آخری چیز جس کا ہمیں خدشہ ہے وہ یہ کہ اگر یہ خانہ جنگی طویل المدتی ہوئی تو پاکستان منتقل ہوگی، پاکستان میں پہلے ہی 30 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور شورش کے نتیجے میں مزید آئیں گے اور پاکستان کی اقتصادی صورتحال مزید افغان مہاجرین برداشت نہیں کرسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں