0

مالم جبہ کیس کے ملزمان کو کلین چٹ، مختلف شخصیات کے خلاف چار انکوائریز کی منظوری

اسلام آباد(اساس رپورٹ) مالم جبہ کیس کے ملزمان کو کلین چٹ مل گئی۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو 275 ایکڑ پر مشتمل مالم جبہ اسکیئنگ چیئرلفٹ ریزورٹ کیس میں رواں سال مارچ میں پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کلین چٹ دے دی۔
دوسری جانب احتساب ادارے نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کے خلاف نئی تحقیقات کی منظوری دی ہے۔
یہ فیصلے نیب کے چیئرمین جاوید اقبال کی زیر صدارت بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس (ای بی ایم) میں ہوئے۔اجلاس کے بعد نیب ہیڈکوارٹرز کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ای بی ایم نے متعلقہ عہدیداروں کو سماعت کے بعد قانون کے مطابق محکمہ جاتی کارروائی کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری کو بے ضابطگیوں کا ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم عدالت کی جانب سے کسی بھی قسم کا حکم امتناع جاری ہو تو کیس کو مجازی اتھارٹی کی منظوری کے بعد اٹھایا جاسکتا ہے۔
نیب کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بیورو نے خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اس کیس کو بند کردیا ہے کیونکہ اس معاملے میں کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ملزم کے خلاف الزامات میں سے ایک الزام یہ ہے کہ قیمتی اراضی کے لیز کی مدت 15 سے بڑھا کر 30 سال کردی گئی، تاہم کمیٹی کی سفارشات میں بتایا گیا کہ اس توسیع کو خیبر پختونخوا کی کابینہ نے منظور کیا تھا۔
خیال رہے کہ 2018 میں جب کے پی کے وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نیب نے انہیں ‘کلین چٹ’ دے دی تھی تو احتساب ادارے نے فوری طور پر ردعمل دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دعویٰ سچ نہیں۔
بتایا گیا ہے کہ مالم جبہ اراضی کو والیِ سوات نے تحفے میں دیا تھا اور اراضی کو لیز پر دینے کا اقدام 2014 میں گیا تھا، تاہم اس معاہدے میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا معلوم ہونے پر محکمہ جنگلات نے بعد میں اس لیز کو منسوخ کردیا تھا۔
وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے ایک خط میں دعویٰ کیا تھا کہ لیز کی مدت 33 سال اور اس کی توسیع کے لیے مزید 20 سال اس اشتہار میں اور منصوبے کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) میں بھی ذکر کیے گئے ہیں۔
ان ٹی او آرز کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے 27 فروری 2014 کو منظور کیا تھا۔اس کی بنیاد پر نجی پارٹیوں نے اس پروجیکٹ کے حصول کے لیے اپنی بولی / تجاویز چیف سکریٹری کے ذریعے نوٹیفائی کردہ کمیٹی کو پیش کیں۔
خط میں کہا گیا کہ یہ سمجھا جانا چاہیے کہ کمیٹی اور وزیر اعلیٰ نے لیز سے متعلق حکومت کی پالیسی کے باوجود موجودہ لیز کی مدت کو ایک خاص کیس کے طور پر طے کیا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ ‘یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے نے 33 سال کے ابتدائی لیز کی مدت کے دوران سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی پیش کش کی، جس میں مزید توسیع کے لیے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا’۔
دیگر اہم امور اٹھاتے ہوئے نیب کے اجلاس میں سید تجم الحسین کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی جن پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی ٹیسٹنگ کمپنی کے ذریعے جعلی بھرتیوں کے اشتہارات محکموں میں آسامیاں نہ ہونے کے باوجود شائع کرتے ہیں۔نیب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمتوں کے جعلی اشتہاروں کے بہانے لوگوں کو بڑے پیمانے پر لوٹا جاتا ہے اور امیدواروں سے بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔
ای بی ایم نے مختلف شخصیات کے خلاف چار انکوائریز کی منظوری بھی دی جن میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور دیگر شامل ہیں، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے افسران و اہلکاروں اور دیگر، محکمہ آبپاشی اور ریونیو پشاور کے عہدیداروں اور دیگر کے خلاف دو انکوائریز کی بھی منظوری دی گئی۔
اس موقع پر نیب کے چیئرمین جاوید اقبال نے کہا کہ بیورو کی ترجیح میگا کرپشن کے کیسز، خاص طور پر شوگر، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس کیس، اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں