0

سندھ میں 8اگست تک جزوی لاک ڈاؤن، مخصوص شعبے بند

کراچی/ راولپنڈی/ اسلام آباد
کروناکی بڑھتی وباکے پیش نظر صوبہ سندھ میں جزوی لاک ڈاؤن کااعلان کردیاگیاہے جو 31جولائی سے 8اگست تک رہے گا۔ اس دوران مخصوص شعبے بند رہیں گے۔کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ سید مرادعلی شاہ کا کہنا تھا کہ ‘ایک ماہ قبل صوبہ سندھ میں روزانہ کے 500 کیسز تھے اور اب یہ تقریباً 3 ہزار ہوگئے ہیں، وائرس سے سب سے زیادہ متاثر کراچی ہوا ہے جو بہت زیادہ گنجان آباد ہے’۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی ڈیلٹا قسم ایک شخص سے کم از کم پانچ لوگوں میں لازمی طور پر منتقل ہوتی ہے، کراچی میں اگر 2 ہزار کیسز بھی سامنے آتے ہیں اور یہ اوسطاً 5 لوگوں میں بھی منتقل کرتا ہے تو یہ بڑھتا رہے گا اس لیے اسے روکنا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ماہرین کی تشخیص ہے اور دنیا میں ڈیلٹا قسم کی تباہی بھی سب نے دیکھ لی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2 ہزار کیسز سامنے آرہے ہیں تو تقریباً 100 افراد روزانہ ہسپتال میں داخل ہوں گے اور اگر اسے روکا نہ گیا تو ہسپتالوں پر بھی دباؤ بڑھتا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ‘آج اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صورتحال سنگین ہے، صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس کے بعد اسد عمر اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے اور انہوں نے ان فیصلوں پر عمل درآمد کا یقین دلایا ہے’۔
مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں لگایا گیا ہے، کچھ چیزیں کھلی رہیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ لاک ڈاؤن کو کامیاب کرنے میں ہماری مدد کریں، 8 اگست تک لاک ڈاؤن ہوگا اور 9 اگست کو ہم اسے کھولنے کی جانب جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ہسپتالوں کی گنجائش برقرار رکھنے کی کوشش میں لاک ڈاؤن لگارہے ہیں، اس کا پھیلاؤ روکنا بہت ضروری ہے’۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ‘کہا گیا کہ سندھ میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا باقی جگہ ہورہا ہے، اس سے اختلاف رکھتا ہوں، پورے پاکستان میں اس معاملے میں ایک سی صورتحال ہے’۔انہوں نے کہا کہ لگتا نہیں کہ 9 روز بعد وبا ختم ہوجائے گی تاہم دوبارہ لاک ڈاؤن کی طرف نہ جانا پڑے اس کا ایک ہی طریقہ ہے ایس او پیز پر عمل درآمد اور ویکسین لگوانا۔
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن آخری آپشن ہے اور چاہتے ہیں کہ اس پر دوبارہ کبھی نہ جانا پڑے۔

دریں اثناپاکستان میں کرونا کی چوتھی لہر کے دوران 24 گھنٹوں میں 86 افراد وائرس سے انتقال کرگئے، مثبت کیسز کی شرح 7.79 فیصد رہی۔
پاکستان میں کرونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 58 ہزار 203 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 4537 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور 86 افراد انتقال کر گئے۔
ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 23 ہزار 295 ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 1489 مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ فعال کیسز کی تعداد 23295 ہے۔
کرونا وائرس کی چوتھی لہر کے دوران راولپنڈی ضلع میں تشویشناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور مثبت کیسوں کی شرح بڑھ کر 12 فیصد ہوگئی ہے۔ چوتھی لہر میں کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد 29 ہزار ہو چکی ہے۔گزشہ ہفتہ کے دوران راولپنڈی ضلع میں مثبت کیسوں کی شرح 8.12 فیصد تھی، گزشتہ ماہ جون میں کورونا کے مثبت کیسوں کی شرح 5.4 فیصد تھی۔
ڈویژنل سرویلنس آفیسر و ترجمان محکمہ صحت راولپنڈی ڈاکٹر وقار احمد نے ایک محکمانہ بریفنگ کے دوران بتایا کہ رواں ماہ جولائی میں کرونا کے کیسوں میں تیز اضافہ ہوا ہے، اس ماہ کے آغاز میں ضلع بھر میں روزانہ 20 کے قریب کیس رپورٹ ہوتے تھے جبکہ اس ماہ کے تیسرے ہفتہ سے کیسوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور روزانہ کیسوں کی تعداد 70 اور 100 کے درمیان ہو گئی۔ 29جولائی کو راولپنڈی ضلع میں 165 کیس رپورٹ ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ کرونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر راولپنڈی ضلع میں ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے مزید سختی کی ضرورت ہو گی اور کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کے عمل کو مزید تیز کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں