0

مستقل درد، موڈ، سوچ اور خیالات بدل سکتا ہے


آسٹریلیا: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل اور دیرینہ تکلیف ہمارے احساسات اور جذبات کو یکسراندازمیں تبدیل کرسکتی ہے۔
ہماری پیشانی کے عقب میں موجود دماغی حصہ خوشی اور تکلیف کا احساس دلاتا ہے۔ لیکن یہی درد جب سوہانِ روح بن کر برقرار رہے تو اس سے ہماری بے چینی بڑھتی ہے ، ہم ڈپریشن کے شکار ہوسکتے ہیں اور خود ہماری شخصیت کے کئی پہلو بدلنے لگتے ہیں۔نیورولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آسٹریلیا کی پروفیسر سلیویا گسٹِن کے مطابق درد بڑھتا رہے اور مسلسل ہو تو ہمارے جذبات اور احساسات تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے بہت دلچسپ تحقیق کی ہے ۔ انہوں نے مسلسل تکلیف جھیلنے والے اور اس سے محفوظ رضاکاروں کے دماغ کو دیکھا ہے اور نوٹ کیا ہے کہ درد آخر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں