0

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کیلیے مفید قرار


جرمنی: قریبا 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب میں وقفے کے اثرات (اسپیسنگ افیکٹ) کی تفصیل دی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ سیکھنے اور پڑھنے کے عمل میں طویل وقفہ لیا جائے تو اس سے یادداشت اچھی ہوتی ہے اور سیکھنے کا عمل بہتر ہوتا ہے۔ اب اسی بات کے مزید سائنسی ثبوت بھی ملے ہیں۔اس ضمن میں جرمنی کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہرین نے چوہوں کے دماغ پر بعض تجربات کئے ہیں جن میں روزمرہ زندگی کے یادداشتی تجربات شامل تھے۔ انہوں نے بھول بھلیوں میں چاکلیٹ رکھی اور اس کے تین مواقع فراہم کئے تاکہ وہ اپنا انعام حاصل کرسکیں۔چاکلیٹ کی تین مرتبہ تلاش کے دوران چوہوں کو راہ سے واقفیت دی گئی اورانہیں سکھانے کے عمل میں مختلف مدتوں کی چھٹی دی گئی۔ جن چوہوں کو زیادہ دیر چھٹی دی گئی تھی انہوں ںے چاکلیٹ کی جگہ کو بہتر طور پر یاد رکھا۔ تحقیق میں شامل سائنسداں اینٹ گلاس نے کہا کہ جن چوہوں کو پہلے دن تدریس کے دوران طویل وقفہ دیا گیا تو وہ چاکلیٹ نہ پہچان سکے لیکن اگلے دن انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی اور بھول بھلیوں کو عبور کرتے ہوئے سب سے پہلے چاکلیٹ تک پہنچے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں