0

نئی ٹیکنالوجی سے ڈیمنشیا کی شناخت صرف ایک دن میں ممکن


لندن: اگرچہ اب طب و صحت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اب اسے ڈیمنشیا جیسے مرض کے لیے بھی آزمایا گیا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی بدولت اب ڈیمنشیا جیسے مرض کو صرف ایک اسکین سے شناخت کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس طرح بیماری کی شدت سے پہلے ہی موذی مرض کو شناخت کیا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی آف کیمبرج سے وابستہ ڈاکٹر ٹموتھی رِٹمان نے یہ تحقیق کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس سے ڈیمنشیا جیسے تکلیف دہ اور پیچیدہ مرض کی شناخت بہت پہلے ممکن ہوگی جس سے علاج کے نئی راہیں کھلیں گی اور جلد ہی انسانوں پر باقاعدہ اس کی آزمائش کی جائے گی۔ یہ ایک حیرت انگیز پیش رفت ہے جو لوگوں کو برباد کرنے والے مرض سے متعلق ہے۔ اب میں کسی مریض کو قدرے اعتماد سے آگاہ کرسکتا ہوں کہ یہ مرض کس درجے پر ہے اور کیسے آگے بڑھے گا۔ اس سے ان کی زندگی کو آسان کرنے اور علاج میں بہت مدد ملے گی، ڈاکٹر ٹموتھی نے کہا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں