0

یہ خوبصورت پودا خفیہ گوشت خور ہے!


وینکوور: کینیڈین سائنسدانوں نے شمالی امریکا کے ایک خوبصورت پودے کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ یہ گوشت خور بھی ہے اور کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی غذائی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنسی زبان میں ٹرائی اینتھا آکسی ڈینٹالس (Triantha occidentalis) کہلانے والے اس پودے کو دنیا بھر میں جعلی جنتی پودا (false asphodel) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے پھول سفید اور شوخ زرد رنگ کے ہوتے ہیں جو بہت خوبصورت لگتے ہیں۔سائنسی لٹریچر میں اس کا اولین حوالہ 1879 میں دیا گیا لیکن اب تک اسے ایک خوبصورت لیکن عام سا پودا ہی سمجھا جاتا تھا۔یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، وینکوور کے شون گراہم اور ان کے ساتھیوں نے پچھلے سال ایک اور تحقیق کے دوران اتفاقیہ طور پر اس پودے میں گوشت خور خصوصیات دریافت کرلیں؛ اور یوں یہ 20 سال بعد دریافت ہونے والا پہلا گوشت خور پودا بھی قرار پایا ہے۔برطانیہ میں فطری تاریخ کے عجائب گھر (نیچرل ہسٹری میوزیم) کے مطابق، اب تک دنیا بھر میں گوشت خور پودوں کی صرف 630 انواع ہی دریافت ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں