0

سالماتی فارمنگ سے پودوں میں کم خرچ اور بہتر ویکسین تیار کی جاسکے گی


کوبیک: سائنسدانوں نے پودوں کے اندر ویکسین کے لیے ضروری پروٹین اور خام مال تیارکرنے میں اہم پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔
پھلوں، سبزیوں اورپودوں میں حفاظتی ویکسین پر ایک عرصے سے کام جاری ہے۔ ٹرانسجینک عمل کی بدولت ایک دن یہ بھی آسکتا ہے کہ بچوں کو چھ حفاظتی ٹیکوں کی بجائے چھ کیلے کھلانے سے بھی ویکسینیشن کا عمل پورا ہوجائے۔ ایسی ہی ایک خبر کینیڈا سے بھی موصول ہوئی ہے۔کوبیک میں واقع یونیورسٹی آف لاول کے پروفیسر گیری کوبنجر اور ہیوز فاسٹر بووینڈو نے اپنی برسوں کی تحقیق جرنل سائنس میں پیش کی ہے جس میں سالماتی فارمنگ (مالیکیولر فارمنگ) کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کی بدولت پودوں میں بعض جینیاتی تبدیلیاں کرکے انہیں ویکسین کے لیے اہم اجزا اور پروٹین تیار کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے اور اسے کم خرچ اور مثر تدبیر کے طور پر پیش کیا ہے۔عموما ہم بیکٹیریا اور یوکیریوٹک طریقہ کار سے بہت ہی مثر ویکسین تیار کررہے ہیں۔ لیکن ان کی تیاری پر بہت خرچ اٹھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پودوں اور سبزے سے ویکسین سازی ایک بہت کم خرچ نسخہ بھی ثابت ہوگا اور ان کے لیے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں